کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت، صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے تاریخی اور اہم اقدام قرار دیا ہے۔ایک بیان میں میاں زاہد حسین نے کہا کہ سرحد پار تجارت میں حائل نان ٹیرف رکاوٹوں، لاجسٹکس کے مسائل اور بندرگاہوں پر تاخیر کے خاتمے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا گیا ہے، جس پر مؤثر عملدرآمد سے کاروباری لاگت کم اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں رواں مالی سال کے اختتام تک مقرر کیے گئے اہداف حوصلہ افزا ہیں۔ گرین چینل کے ذریعے کارگو کی ترسیل کا تناسب 65 فیصد اور پیشگی کلیئرنس 30 فیصد تک بڑھانے سے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو نمایاں سہولت ملے گی۔ اس اقدام سے کارگو کی کلیئرنس کا وقت کم ہونے کے ساتھ ڈیمریج اور ڈیٹینشن کی مد میں ہونے والے زرمبادلہ کے اخراج میں بھی کمی آئے گی۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ تصدیق شدہ کاروباری اداروں کی تعداد 50 سے زائد کرنے کا فیصلہ بھی اہم ہے، اس سے متعلقہ اداروں کو تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس کی سہولت میسر آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ قومی تجارتی کارکردگی اشاریے کے قیام اور کارگو کے قیام سے کلیئرنس تک کے وقت، کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس اور جہازوں کی کلیئرنس جیسے اہم معاملات کی باقاعدہ نگرانی سے اداروں کی کارکردگی اور شفافیت میں بہتری آئے گی۔انہوں نے نان ٹیرف اقدامات کے جامع جائزے اور غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے قائم ورکنگ گروپ کو ایک ماہ میں لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیچیدہ ضوابط اور غیر ضروری کارروائیوں نے طویل عرصے سے برآمدی شعبے کی صلاحیت متاثر کر رکھی ہے۔انہوں نے بندرگاہوں پر متعلقہ اداروں کے مشترکہ معائنے اور کسٹمز کے خطرات کی نشاندہی کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو جدید تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگ اقدام قرار دیا۔















