کسی قوم کے لیے اس کے تعلیمی ادارے صرف اینٹ، پتھر، عمارت اور زمین کا نام نہیں ہوتے۔ کچھ ادارے وقت کے ساتھ ساتھ قومی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی عمارتوں میں صرف کلاس روم نہیں ہوتے، وہاں نسلوں کے خواب پرورش پاتے ہیں، ہنر جنم لیتا ہے، نوجوان اپنے ہاتھوں میں علم اور اپنے ذہنوں میں مستقبل لے کر نکلتے ہیں۔ کراچی کا گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، سائٹ بھی ایسا ہی ایک ادارہ ہے۔ آج اگر اس ادارے کے مستقبل کے بارے میں کوئی ایسا فیصلہ زیر ِ غور ہے جس سے اس کی سرکاری اور عوامی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے تو یہ محض ایک کالج کا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ کراچی، سندھ اور پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوال ہے۔ جی سی ٹی کراچی کی تاریخ دراصل پاکستان کی صنعتی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ملک کو ایک ایسے مسئلے کا سامنا تھا جسے آج بھی پوری شدت سے محسوس کیا جاسکتا ہے: صنعتی ترقی کے لیے تربیت یافتہ تکنیکی افرادی قوت کی شدید کمی۔ اسی ضرورت کے تحت وفاقی حکومت نے 1948 میں کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن قائم کیا اور ملک میں پولی ٹیکنک اداروں کے قیام کی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔ اسی سلسلے میں کراچی پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ ستمبر 1954 میں قائم ہوا۔ یہ ادارہ ابتدا میں صرف تین شعبوں الیکٹریکل، میکینکل اور ریڈیو الیکٹریشن سے شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اورسیول، کیمیکل، ٹیکسٹائل، آٹو اینڈ ڈیزل، پاور، ریفریجیرٹر اینڈ ائر کنڈیشنگ، انسٹرومنٹ، کمپیوٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبے شامل ہوتے گئے۔
پھر مارچ 1974 میں ایک اہم مرحلہ آیا جب حکومت نے یہاں بیچلر آف ٹیکنالوجی کے پروگرام متعارف کرائے اور ادارے کا نام گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رکھ دیا گیا۔ بعد ازاں بی۔ ٹیک پروگرام کی جگہ بیچلر آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے پروگرام متعارف ہوئے۔ آج جی سی ٹی کراچی سیول، الیکٹریکل، اورمیکینکل انجینئرنگ ٹیکنالونی میں چار سالہ B.E. Tech پروگرام بھی پیش کر رہا ہے۔ یعنی یہ ادارہ چند سال یا چند دہائیوں کی پیداوار نہیں۔ یہ سات دہائیوں سے پاکستان کے صنعتی سفر کا حصہ ہے۔ یہاں سے ہزاروں نوجوان ایسوسی ایٹ انجینئر، ٹیکنالوجسٹس اور فنی ماہرین بن کر نکلے۔ کسی نے صنعت کا رُخ کیا، کسی نے سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیں، کسی نے بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور کسی نے اپنے چھوٹے سے کاروبار کو ترقی دے کر کئی خاندانوں کے لیے روزگار پیدا کیا۔
جی سی ٹی کے حالیہ سرکاری تعارفی مواد میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ادارے نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ہزاروں تربیت یافتہ اسیوسی ایٹ انجینئرز اور گریجویٹ پیدا کیے اور اس کے ایلومنائی پاکستان کی تکنیکی افرادی قوت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جس ادارے نے نسلوں کو ہنر دیا، آج اس نسل کو اس ادارے کے تحفظ کے لیے آواز کیوں نہ اُٹھانی چاہیے؟ سب سے بڑا سوال اس وقت ادارے کی ممکنہ نجکاری یا نجی انتظام سے متعلق ہے۔ نجی شعبہ اپنی جگہ اہم ہے۔ پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں نے بھی تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن سرکاری تکنیکی ادارے کی بنیادی روح مختلف ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صرف تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے نوجوان کو موقع دینا ہے جس کے پاس صلاحیت ہو مگر وسائل محدود ہوں۔ ایک متوسط طبقے کا نوجوان اگر سرکاری جی سی ٹی میں داخلہ لے کر کم نسبتاً فیس میں تکنیکی تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتا؛ وہ پورے خاندان کی معاشی سمت بدل دیتا ہے۔ یہی سرکاری فنی تعلیم کی اصل طاقت ہے۔ لیکن اگر یہی تعلیم نجی انتظام کے تحت اس قدر مہنگی ہوجائے کہ متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کا بچہ اس تک پہنچ ہی نہ سکے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے: ہم ادارہ بچا رہے ہوں گے یا اس کی روح ختم کر رہے ہوں گے؟ اور یہاں ایک دوسرا، اس سے بھی زیادہ حساس سوال سامنے آتا ہے۔ جی سی ٹی کراچی کسی معمولی جگہ پر قائم نہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق یہ سائٹ کراچی میں 103 ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم ہے، یعنی تقریباً 489,520 مربع میٹر زمین۔ ادارہ کراچی کے بڑے صنعتی زون کے وسط میں واقع ہے، جسے سرکاری دستاویز خود طلبہ کے لیے صنعتوں کے عملی مشاہدے کے اعتبار سے ایک مثالی مقام قرار دیتی ہے۔ تو کیا اس زمین کو صرف اس کی کمرشل قیمت سے دیکھا جائے؟ کیا 103 ایکڑ زمین کی مارکیٹ ویلیو اس ادارے کی تعلیمی اور قومی قدر سے زیادہ اہم ہے؟ یہ سوال اٹھانا کسی پر الزام لگانا نہیں۔ یہ عوامی اثاثے کے بارے میں عوام کا بنیادی حق ِ سوال ہے۔ اگر نجکاری کا مقصد ادارے کی کارکردگی بہتر بنانا ہے تو حکومت کو کھلے عام بتانا چاہیے کہ اس کا تعلیمی ماڈل کیا ہوگا؟ فیس کتنی ہوگی؟ موجودہ طلبہ کا کیا ہوگا؟ کم آمدنی والے طلبہ کے لیے کیا سہولت ہوگی؟ اساتذہ اور ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور سب سے اہم اس وسیع زمین کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا وہاں ہمیشہ کلاس روم، لیبارٹریاں، ورکشاپس اور تعلیمی سہولیات رہیں گی؟ یا کچھ عرصے بعد یہی سوال اٹھے گا کہ جب ادارہ نجی ہوگیا ہے تو زمین کا بہتر استعمال کیا ہوسکتا ہے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کو انتہائی محتاط ہونا ہوگا۔ کیونکہ تعلیمی زمین کو کمرشل زمین میں تبدیل کرنا صرف نقشے پر ایک تبدیلی نہیں ہوتی؛ یہ نسلوں کے حق میں تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے تو جی سی ٹی کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پہلے ایک اور راستہ کیوں نہ اختیار کیا جائے؟ اس ادارے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے جدید تعلیمی ماڈل پر کیوں نہ چلایا جائے، جس میں صنعتیں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی فراہم کریں، طلبہ کو انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ ملیں، لیکن ادارے کی عوامی اور تعلیمی حیثیت برقرار رہے؟ صنعتی علاقے کے وسط میں موجود جی سی ٹی کو پاکستان کا ایک مثالی فنی تعلیمی مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ یہاں جدید آٹومیشن، ربوٹک،مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیاں، صنعتی الیکٹرونکس، سافٹ ویئر، میکاٹرونکس اور ایڈوانس مینوفیکچرنگ کے شعبے قائم کیے جاسکتے ہیں۔ جو زمین آج کمرشل نگاہوں کو قیمتی دکھائی دیتی ہے، اسی زمین کو اگر جدید فنی تعلیم کے مرکز میں تبدیل کردیا جائے تو اس کی قومی قیمت کسی بھی تجارتی قیمت سے کہیں زیادہ ہوگی۔
ایک نوجوان کو ہنر دینا دراصل ایک خاندان کو معاشی آزادی دینا ہے۔ ایک ہزار نوجوانوں کو ہنر دینا ایک پوری بستی کی معاشی حالت بدل سکتا ہے۔ اور سات دہائیوں سے ہزاروں نوجوانوں کو ہنر دینے والے ادارے کو کمزور کرنا دراصل اس قومی سرمایہ کاری کو کمزور کرنا ہے جو نسلوں پر محیط ہے۔ آج جی سی ٹی کراچی کے دروازے پر کھڑا سوال صرف یہ نہیں کہ یہ ادارہ سرکاری رہے گا یا نجی؟ اصل سوال یہ ہے: کیا پاکستان میں تعلیم حق رہے گی یا استطاعت بن جائے گی؟ کیا فنی تعلیم متوسط طبقے کے بچے کا راستہ کھلا رکھے گی؟ کیا ریاست کا تعلیمی اثاثہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے گا؟ اور کیا ہم اپنے نوجوانوں کو یہ پیغام دیں گے کہ جس ملک کو آج فنی ماہرین، ٹیکنالوجسٹ اور ہنرمند نوجوانوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اسی وقت اس کے تاریخی فنی اداروں کی عوامی حیثیت کم کی جارہی ہے؟ جی سی ٹی کراچی کو ختم کرنے کی نہیں، مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی زمین کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ورکشاپس کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے طلبہ کو صنعت سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، اس ادارے کے دروازے اس نوجوان کے لیے کھلے رکھنے کی ضرورت ہے جو ذہین تو ہے، محنتی بھی ہے، مگر اس کے والدین بھاری نجی فیس ادا نہیں کرسکتے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جی سی ٹی کے سابق طلبہ، صنعت کار، اساتذہ، والدین، طلبہ اور تعلیمی ماہرین آگے آئیں اور ادارے کے مستقبل پر سنجیدہ مکالمہ کریں۔ کیونکہ یہ ادارہ صرف آج کے طلبہ کا نہیں۔ یہ ان ہزاروں خاندانوں کی اُمید ہے جن کے بیٹے اور بیٹیاں یہاں سے ہنر لے کر اپنے گھروں کا سہارا بنے۔ یہ پاکستان کی صنعتی تاریخ کا ایک باب ہے۔ یہ کراچی کی فنی تعلیم کی ایک شناخت ہے۔ اور یہ ایک ایسا عوامی اثاثہ ہے جس کی قیمت صرف زمین کے مربع گز سے نہیں لگائی جاسکتی۔ زمین بیچ کر شاید ایک وقتی مالی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مگر ایک نسل کو ہنر دے کر ایک ملک کا مستقبل بنایا جاسکتا ہے۔ اس لیے فیصلہ کرنے والوں سے صرف اتنی گزارش ہے: جی سی ٹی کی زمین کو زمین نہ سمجھیں— یہاں نسلوں کے مستقبل کی بنیادیں رکھی گئی ہیں۔ اور اگر واقعی مقصد تعلیم، صنعت اور نوجوانوں کا مستقبل ہے تو جی سی ٹٰ کو نجکاری کے تجربے کی بجائے قومی فنی تعلیم کے ماڈل ادارے میں تبدیل کرکے دکھائیے۔ کیونکہ جو قوم اپنے تعلیمی ادارے بچاتی ہے، وہ صرف عمارتیں نہیں بچاتی— وہ اپنا مستقبل بچاتی ہے۔















