نبی کریمؐ کی معاشی زندگی: فقر، سادگی و قناعت کا انمول نمونہ

Muhammad-Hussain-Mehanti

’’میں آپؐ کو فاقہ کی حالت دیکھ کر رو پڑا کرتی اور اضطراب سے آپؐ کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتی جو فاقے سے دب گیا تھا اور عرض کیا کرتی ’’میری جان آپؐ پر قربان خدا کے لیے دنیا سے اتنا تو قبول فرما لیجیے جو جسمانی قوت کو قائم رکھنے کے لیے کافی ہو‘‘، یہ وہ الفاظ ہیں جو سیدہ عائشہ آپؐ کی زندگی میں فقر و قناعت کو دیکھ کر آنسوں بہاتے ہوئے کہتی ہیں۔ تو آپؐ جواب دیتے ہیں ’’عائشہ! مجھے دنیا سے کیا کام میرے بھائی اولوالعزم رسول تو اس سے بھی زیادہ سخت حالت پر صبر کیا کرتے تھے اور وہ اسی چال پر چلے اور خدا کے سامنے پہنچ گئے اور خدا نے ان کو نوازا اور پورا بدلہ دیا۔ اب اگر میں آسودگی کی زندگی بسر کرتا ہوں تو مجھے شرم آتی ہے کہ کل میں ان سے کم نہ رہ جاؤں۔ دیکھو! جو چیز مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے وہ یہی ہے کہ میں اپنے بھائیوں سابق انبیاء کرامؑ سے جا ملوں‘‘۔ اسی طرح ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ آپؐ کے رہائشی کمرے میں تشریف لے گئے تو انہیں وہاں کے حالات دیکھ کر بیحد پریشانی ہوئی کہ ’’ایک طرف کھجور کی چٹائی پڑی تھی، ایک کونے میں تھوڑے سے جو پڑے تھے، دیوار پر ایک بکری کی کھال لٹک رہی تھی، آپؐ کے جسم پر کھجور کی چٹائی کے نشانات موجود تھے اور جسم پر ایک تہبند اور معمولی چادر تھی‘‘۔ یہ منظر دیکھ کر سیدنا عمرؓ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ جیسے بادشاہ ریشم و زر اور ناز و نعم میں زندگی بسر کررہے ہیں اور آپؐ اللہ کے رسول ہوکر اس حال میں ہیں‘‘ آپؐ نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’’کیا تمہیں پسند نہیں کہ دنیا ان کے لیے ہو اور آخرت ہمارے لیے‘‘۔

سیدنا محمدؐ کی اعلیٰ ترین شخصیت کے سوا، دنیا میں آج تک کوئی ایسی ہستی پیدا ہی نہیں ہوئی جسے دنیا بھر کے وسائل، اقتدار اور دولت تک رسائی حاصل ہو، مگر اس کے باوجود وہ سادگی، قناعت اور فقر کو اپنی زندگی کا شعار بنائے ہوئے ہو۔ آپؐ کی معاشی زندگی محض کسمپرسی یا مجبوری کی داستان نہیں، بلکہ ایک بامقصد سادگی، باشعور اور با ارادہ قناعت کا وہ اعلیٰ ترین نمونہ ہے جو تا قیامت انسانیت کے لیے مینارِ نور بنی رہے گی۔

نبی اکرمؐ ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں والدین کی وفات کے سبب کچھ دن عسرت میں گزارے۔ آٹھ سال کی عمر میں مکہ کے سردار دادا عبد المطلب کے انتقال کے بعد چچا ابوطالب نے پرورش کی ذمے داری سنبھالی۔ چچا کا گھرانہ خود وسائل کے اعتبار سے محدود تھا، مگر آپؐ نے بچپن ہی سے محنت، دیانت اور امانت کی اعلیٰ صفات اپنائیں۔ کچھ دن آپؐ نے مکہ والوں کی بکریاں چرائیں جو اللہ کی طرف سے سنت انبیاء ہے۔ اس کے بعد اپنے چچا کے ساتھ تجارت کے میدان میں اترے اور اپنی صداقت کا لوہا منوایا۔ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی آپؐ کی امانت و دیانت کا چرچا پورے مکہ میں پھیل چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیدہ خدیجہؓ نے آپؐ کو اپنا تجارتی سرمایہ سونپ کر شام کی طرف روانہ کیا، اور آپؐ کی صداقت و دیانتداری کی وجہ سے ایسا نفع ہوا کہ سیدہ خدیجہؓ نے خود نکاح کا پیغام بھیجا۔ نکاح کے بعد نبوت سے پہلے کے پندرہ سال آپؐ کا معیارِ زندگی خوشحالی میں گزرے لیکن نبوت سے سرفرازی کے بعد آپؐ نے از خود سادگی، قناعت اور فقر کی زندگی کو اپنایا۔ یہ کسی حالات کے جبر اور مجبوری کا نتیجہ نہ تھا، کیونکہ بعد کے برسوں میں جب پورا جزیرہ نمائے عرب اسلام کے زیر ِ نگیں آچکا تھا اور بیت المال میں وسائل کی فراوانی ہونے لگی، تب بھی آپؐ نے اپنا انداز نہ بدلا اور ان کی یہ عادت تھی کہ ہر آنے والے مال یا چیز کو فوراً حاجت مندوں اور غریبوں پر تقسیم فرما دیتے۔ اپنے پاس کچھ نہ رکھتے۔ سادگی و فقر کا یہ عالم تھا کہ اکثر بغیر چھنے جو کا آٹا استعمال فرمایا کرتے، بعض اوقات دن بھر بھوک کی شدت برداشت کرتے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی روایت ہے کہ آلِ محمد پر مسلسل دو دو ماہ ایسے گزر جاتے کہ گھروں میں چولہا روشن نہ ہوتا تھا اور صرف کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا۔ لباس کے معاملے میں بسا اوقات آپؐ کے پاس ایک ہی جوڑا ہوتا تھا جسے آپؐ دھوکر اور فوراً سکھا کر زیب تن کرلیتے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے آپؐ کو ایک ریشمی چغہ ہدیہ بھیجا۔ آپؐ نے اسے پہن کر نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہوکر نہایت ناگواری سے اُتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ’’یہ پرہیزگاری کے قابل نہیں ہے‘‘۔

مدینہ منورہ میں آپؐ کا مکان کچی اینٹوں، کھجور کے تنوں اور کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا ایک نہایت ہی چھوٹا سا حجرہ تھا۔ بستر مبارک کھجور کی چھال سے بھرا ہوا چمڑے کا ایک بچھونا ہوتا یا پھر آپؐ بوریے اور چٹائی پر سو جاتے تھے۔ چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے اکثر آپ کے جسم اطہر پر چٹائی کے نشانات ابھر آتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہی سے یہ بھی منقول ہے کہ بھوک کی شدت کے وقت آپؐ اپنا دست ِ مبارک پیٹ پر رکھ لیتے، اور بعض روایات میں پیٹ پر پتھر باندھنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ نہ قیمتی ریشم، نہ زرق برق پوشاک، بلکہ سادہ اور کئی پیوند لگے کپڑے آپؐ کا معمول تھے۔ اوڑھنے کے لیے ایک سادہ چادر کافی سمجھی جاتی، کسی نرم و گداز بستر کی کبھی تمنا تک نہ کی۔ طویل سفر، ہجرتِ مدینہ اور غزوات کے مواقع پر اونٹنی ’’قصوا‘‘ آپؐ کی مخصوص سواری رہی، جبکہ مقامی سطح پر مختصر فاصلوں کے لیے کبھی خچر اور کبھی گدھے پر سوار ہونا بھی معمول میں شامل تھا۔ کسی نے کبھی آپؐ کو شاہانہ کروفر کے ساتھ سوار نہیں دیکھا بلکہ نبی کریمؐ جب قصوا اوٹنی پر سوار فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ کا سر مبارک اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز تھا۔

آپؐ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو دنیا سے مکمل بے رغبتی اور بے نفسی تھا۔ ارشادِ نبوی ہے کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ گزر ہو۔ قیصر و کسریٰ کے نام فرمان بھیجنے والا کئی روز فاقہ کرتا، اپنے ہاتھوں سے کپڑے سی لیتا اور دھو لیتا، اپنے جوتے اپنے ہاتھوں سے گانٹھ لیتا۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں جب آپؐ نے انتقال فرمایا تو آپؐ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی تھی۔ آخری شب پڑوسی کے گھر سے چراغ کے لیے تیل منگوایا گیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی درہم چھوڑا، نہ کوئی دینار، نہ کوئی غلام، نہ کوئی باندی اور نہ کوئی اونٹ، نہ کوئی بکری۔ سوائے اس سفید مادہ خچر کے جس پر آپؐ سواری کرتے تھے اور بجز جہاد کے لیے استعمال ہونے والے اپنے ہتھیار اور کچھ زین کے اور اسے بھی آپؐ نے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا تھا۔ عصرِ حاضر میں سیدنا محمد عربیؐ کی سادہ معاشی زندگی یہ عظیم درس دیتی ہے کہ اصل عظمت مال و دولت کی فراوانی میں نہیں، بلکہ رضائے الٰہی و آخرت کی تیاری اور قناعت، ایثار اور اللہ کے دین و دوسروں کی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کر دینے میں پوشیدہ ہے۔ آج کے مادہ پرست دور میں، جب انسان دولت ومنصب کی ہوس میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار کھوتا جا رہا ہے، ہمیں رسول اکرمؐ کے فقر، سادگی اور قناعت کو اپنانا ہوگا۔ ہوس نفس نے مسلمانوں کو تباہ کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو محمدؐ کے با وقار و متین معیار زندگی پر چلتے ہوئے دولت و ہوس نفس میں مست مگن دنیا کے سامنے بہتر نمونہ عمل پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

مزید خبریں

Scroll to Top