اَمرِت دھارا!

Mufti-Muneeb-Ul-Rehman

’’اَمْرِت دھارا‘‘ سے مراد آبِ حیات یا ایسی دوا جو ہر مرض کا علاج ہو، اسے ’’اکسیرِ اعظم‘‘ بھی کہتے ہیں، اس کے لغت میں کئی معانی ہیں، لیکن یہاں ہماری مراد وہ معنی ہے جو شروع میں لکھ دیا گیا ہے۔ آج کل ہمارے نظام کا ’’اَمرِت دھارا‘‘ جنابِ سید محسن نقوی ہیں۔ ویسے منطق میں تو اجتماعِ نقیضین مُحال ہے، لیکن اُن کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ مُحال کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں، وہ بیک وقت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بھی چہیتے ہیں اور صدر آصف علی زرداری کے بیٹے بھی کہلاتے ہیں، حالانکہ اس وقت دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہے، لیکن نقوی صاحب کو دونوں کا اعتماد حاصل ہے اور رابطہ کاری کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ جس مقام پر پہنچ چکا ہے، یہ بھی اُنھی کا کارنامہ ہے۔ اُن کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ ہمالیہ کی بلندیوں سے تحت الثریٰ تک جاپہنچا ہے، مگر انہوں نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں تنقید کرنے والوں کی بابت فرمایا: ’’جنہوں نے خود کچھ نہیں کیا، ان کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ تنقید سے نہ پہلے گھبرائے ہیں، نہ اب گھبراتے ہیں، جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں، ان کے آنے سے ہی کرکٹ تباہ ہوئی تھی، یہ لوگ کبھی کہتے ہیں: ’’فلاں کو نکال دو‘‘ اور کبھی کہتے ہیں: ’’فلاں کو کیوں کھلایا‘‘، البتہ اگر وسیم اکرم جیسے بڑے کھلاڑی بات کریں تو اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں‘‘۔ لیکن وسیم اکرم کو تو آج تک پی سی بی نے کوئی بڑا منصب عطا نہیں کیا۔ بہر حال یہ اُن کی خود اعتمادی کی بیّن دلیل ہے، کیونکہ اُن کا ’’کھونٹا‘‘ مضبوط ہے۔

انہوں نے منتخب تاجروں اور صنعت کاروں کے اجتماع میں پہلی بار یہ وعید سنائی کہ نظام منہدم ہوچکا ہے، لوگوں کو حیرت ہوئی کہ ایک ایسا شخص موجودہ نظام کے انہدام کی وعید سنا رہا ہے، جو اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں سرِ فہرست ہے۔ پس لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ موصوف ایک منہدم نظام کا لازمی جز کیوں بنے ہوئے ہیں۔ مگر جب انہیں اپنے فرمودات کے مابعد اثرات کا احساس ہوا تو ایک وضاحت جاری کی کہ یہ نظام اناسی سال سے بوسیدہ چلا آرہا ہے، پس اس تعبیر کی رو سے معمار نے پہلے دن سے ہی خِشتِ اوّل ٹیڑھی رکھی تھی، لہٰذا اوجِ ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی، البتہ انہوں نے تسلی دی کہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت موجودہ حکومتی ڈھانچہ اپنی مدت پوری کرے گا۔

نئے صوبے بنانے کا طریقۂ کار آئین میں درج ہے، مگر اُس کی راہ میں پیپلز پارٹی پوری قوت کے ساتھ حائل ہے، کیونکہ اُنھیں صوبۂ سندھ کی تقسیم کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ بلکہ بعض نے متنبہ کیا ہے کہ سندھ میں اس کا ردِّعمل بلوچستان سے بھی شدید ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چولستان کے لیے نئی نہروں کا منصوبہ مقتدرہ کو ترک کرنا پڑا، کیونکہ سندھی قوم پرست میدانِ عمل میں آچکے تھے اور ان مسائل میں پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست یک جان اور یک زبان ہوتے ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 239(4) کی رُو سے کسی صوبے کی حدود میں ردّوبدل کر کے نیا صوبہ تشکیل دینے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت سے قرارداد پاس کرنی ہوگی اور پھر اس کی متابعت میں پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری درکار ہوگی، سرِدست یہ ہمالیہ سرکرنا کافی مشکل ہے۔ مقتدرہ کا اصل مسئلہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے قومی محاصل کا ایک بہت بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہوتا ہے، مقتدرہ اُسے رول بیک کرنا چاہتی ہے، لیکن صوبوں خاص طور پر صوبۂ سندھ کو اس پر رضامند کرنا عملاً انتہائی دشوار ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وفاق مالی اعتبار سے مشکل میں ہے۔ البتہ کسی حد تک یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ صوبے مقتدرہ کے دبائو سے نکلنے کے لیے مقامی حکومتوں کو مالی وسائل منتقل کرنے پر وقتی طور پر آمادہ ہوجائیں، مگراُن کا اس پر بھی قائم رہنا دشوار ہوگا، کیونکہ اس کے لیے صوبائی وسائل کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے کے لیے صوبے کے اندر بھی پروونشل فنانس کمیشن ایوارڈ کا کوئی نہ کوئی فارمولا بنانا ہوگا۔

مقتدرہ کی طرف سے نئے صوبے بنانے کے حق میں جو دلائل دیے گئے ہیں، اُن میں آبادی اور رقبے کو بنیاد بنایا گیا ہے اور دنیا کے ممالک سے تقابل کیا گیا ہے۔ لیکن مخالفین کے پاس ان دلائل کا توڑ بھی موجود ہے، مثلاً: بھارت میں صوبۂ اتر پردیش کی آبادی کم وبیش پاکستان کے برابر ہے، نیز صوبہ بہار اور مہاراشٹرا کی آبادی بھی پاکستان کے صوبۂ پنجاب سے زیادہ ہے، اسی طرح بھارتی صوبہ راجستھان بھی رقبے کے اعتبار سے کم وبیش بلوچستان کے برابرہے۔ بنگلا دیش ایک قوم اور ایک زبان کا ملک ہونے کے سبب ایک وحدت پر مشتمل ہے اور اس میں صوبوں کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ آبادی اور رقبے کا تفاوت امریکا کی ریاستوں میں بھی موجود ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان میں ایسی معتمد علیہ قومی وملّی قیادت نہیں ہے جو پاکستان کے سارے صوبوں میں یکساں طور پر مقبول ہو اور اُسے عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہو کہ وہ پورے ملک کے عوام کو کسی ایک متفقہ فیصلے پر آمادہ کرسکے۔ افغانستان نے شروع ہی سے ہر ضلع کو ولایت کا درجہ دے رکھا ہے، لیکن وہاں ہماری طرح کا کوئی صوبائی یا مقامی حکومتوں کا سیٹ اپ نہیں ہے، بلکہ ضلع کے نگرانِ اعلیٰ کو والی کہتے ہیں اور وہ ایک سویلین شخص بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ہماری طرح سروس کیڈر سے یا منتخب ہونا ضروری نہیں ہے، لہٰذا پاکستان کو اس پر قیاس نہیں کرسکتے، اسی طرح ترکیے بھی غالب اکثریت کے اعتبار سے ایک قوم اور زبان والوں کا ملک ہے، لہٰذا وہاں ایسی مشکلات نہیں ہیں، جو ہمیں درپیش ہیں۔

مزید صوبے بنانے کی صورت میں پورے آئینی ڈھانچے میں کافی ترمیمات درکار ہوں گی، سینیٹ کی پوری ساخت بدل جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر نئی ساخت میں سینیٹ کو کنٹرول کرنا بھی مشکل ہوجائے۔ قبائلی اضلاع کے پختون خوا میں انضمام کے سبب قومی اسمبلی کی براہِ راست منتخب نشستیں 272 کے بجائے 266 رہ گئی ہیں۔ لیکن صوبے کی آبادی میں اضافے کے بعد این ایف اسی ایوارڈ کا از سرِ نو تعیّن نہیں ہوسکا، اس لیے ضم شدہ اضلاع کے لیے بھی وفاق کو اپنے وسائل سے الگ سے دینا ہوتا ہے، اسی طرح ’’گلگت بلتستان کونسل‘‘ اور آزاد کشمیر کے لیے بھی وفاق کو دینا ہوتا ہے۔ مقتدرہ نے خواہش ظاہر کی کہ بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ صوبے اپنے وسائل سے دیں، لیکن صوبۂ سندھ اس پر بھی راضی نہیں ہوا، بلکہ وفاق سے اس کے بجٹ کو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ بی آئی ایس پی کو صدر آصف علی زرداری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تحفظ دے رکھا ہے، صرف جنابِ عمران خان نے اپنے دور میں اس کو آئینی طور پر ختم کرنے کے بجائے ’’احساس کفالت پروگرام‘‘ کے عنوان سے اپنا متبادل پروگرام شروع کیا تھا۔ اُس وقت انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ بی آئی ایس پی میں بڑی کرپشن ہے، لیکن پھر کسی کے خلاف کسی باقاعدہ کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ موجودہ اتحادی فارمولے میں بھی بی آئی ایس پی کی سربراہی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

جنابِ محسن نقوی نے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نہیں روک سکتی، نظام کی تشکیلِ نو ضروری ہے۔ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت اور سندھ میں نئے صوبے بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔ تشکیلِ نو کا مطلب نظام توڑنا نہیں ہے، نئی انتظامی اکائیوں کا معاملہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ پنجاب میں لاہور جیسا، سندھ میں کراچی جیسا اور پختون خوا میں پشاور جیسا کوئی اور شہر ہے‘‘۔ انھیں کون بتائے کہ ایسی مثالیں تو دنیا کے ہر ملک میں مل جائیں گی۔ انہوں نے ملفوف انداز میں زرداری صاحب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا: ’’میں نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، جو مرضی کر لیں ممدانی اور صادق خان تو اب آئیں گے، ہم تحصیل، ضلع اور ڈویژن بنا سکتے ہیں، تو صوبہ کیوں نہیں بناسکتے‘‘۔ کس کی مجال ہے کہ نقوی صاحب سے پوچھے: حضور! آپ کا نام ’’عوام‘‘ کب سے پڑ گیا ہے، ممدانی اور صادق خان تو آپ کی طرح اوپر سے نازل نہیں ہوئے، عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top