گزشتہ دنوں کراچی میں گاڑی ٹکرانے کے معمولی تنازع پر جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی علوم کے چیئرمین پروفیسر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورکئی گھنٹے حبس ِ بے جا میں رکھا گیا۔ فرعون صفت بااثر مترفین کے ہاتھوں ایک استاذ کو تشدد کا نشانہ بنایا جانا اور اس کی تضحیک و تذلیل میرے وطن عزیز میں کوئی انہونا واقعہ نہیں ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ معمول کی وارداتیں ہیں۔ اس سے بھی شرمناک یہ سچ ہے کہ ہم نے من حیث القوم اس ذلت کو قبول بھی کرلیا ہے۔ اس شرمناک واقعہ پر سندھ حکومت کے وزیر داخلہ کا رسمی بیان، دکھاوے کی کارروائی اور متعلقہ تھانے کو کیس سے متعلق ’’ہدایات‘‘ بھی ہم جانتے ہیں کہ بے حس معاشرے کی ایک رسمی کارروائی ہے۔ عام لوگوں کا اس واقعہ پر مردار سا ردعمل بھی ان رسمی کارروائیوں کا تسلسل ہے جو پون صدی سے چلی آرہی ہیں۔ اور نہیں معلوم کب تک چلتی رہیں گی۔
دنیا بھر میں استاذ کا بہت عظیم اور قابل احترام مقام ہے لیکن ہے وہ مقام صرف ’’مہذب‘‘ معاشروں میں۔ وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے وقار، عزت اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ واقعے میں ملوث عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ عزت نفس ہر بندے کو عزیز ہوتی ہے۔ خوب صورت الفاظ اسی کے منہ سے اچھے لگتے ہیں، جس کا عمل اور کردار شفاف ہو۔ سندھ کی وڈیرہ شاہی کی نمائندہ صوبائی حکومت اور اس کے کسی وزیر سے ’’خوب صورت‘‘ الفاظ کے سوا کسی مثبت عمل کی توقع عبث ہے۔ ہم بحیثیت قوم، وہ خوش بخت لوگ نہیں ہیں جن کی اپنی سوچ، عمل اور کردار قابل تعریف ہوں۔ استاذ بھی ہمارے اسی معاشرے اور اسی قوم کے فرد ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے وقار، عزت اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ واقعے میں ملوث عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ نہیں معلوم کہ وزیر صاحب کے پاس کون سا پلان ہے جس کے ذریعے وہ اساتذہ کے وقار، عزت اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
استاذ بھی ہمارے اسی معاشرے اور اسی قوم کے فرد ہیں۔ ہونا تو نہیں چاہیے مگر۔۔۔ کیا کہا جائے اپنی زندگی میں جو دیکھا ہے وہ اچھا نہیں ہے۔ اب تک کسی ظالم کو سزا ملی ہو، کسی غنڈے کو، کسی پیر کو، کسی وڈیرے کو، کسی سردار کو سزا دلوانے کے لیے مظلوم ڈٹ گیا ہو، دیکھا نہیں! رابطے شروع ہوچکے ہوں گے، دھمکیاں اور ترغیبات دی جا رہی ہوں گی۔ وڈیرے پیر فقیر کو شریعت اور اسلامی اخلاقیات یاد آرہی ہوں گی۔ شریعت کے حوالے بھی یاد کروائے جارہے ہوں گے، اسلام یں معاف کرنے کو بڑی نیکی کے طور پر اُجاگر کیا جارہا ہوگا۔ ہونا تو نہیں چاہیے۔ دوست احباب بھی ’’مفید‘‘ مشوروں سے نواز رہے ہوں گے کہ پروفیسر صاحب جانے دیں کہاں آپ تھانے کچہری چکروں میں پڑیں گے۔ عدالتوں کے دھکے کھا کر بھی کچھ ملنا تو ہے نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اس صورت حال میں یہ ’’مظلوم‘‘ استاذ بھی بااثر شخصیت کو جلد ہی ’’صدق دل سے‘‘ اور ’’بغیر کسی دباؤ کے‘‘ معاف کردے گا۔ سچی بات یہ ہے کہ یہاں کا غریب اتنا اعلیٰ ظرف اور بڑا اور رحم بھرا دل رکھتا ہے کہ وہ ظالم، قاتل اور ڈاکؤں کو معاف کرنے میں لمحہ بھر بھی دیر نہیں کرتا۔ یہاں بااثر غنڈوں کو بے اثر مظلوموں کی طرف سے معاف کیا جانا معمول کی بات ہے۔ یہاں عزتوں کے لٹیروں کو، قاتلوں کو بھی آسانی سے معافی مل جاتی ہے۔ شرط صرف اتنی سی ہے کہ قاتل طاقت ور ہو، بااثر ہو اور مقتول کمزور!
یہ دنیا میں کہاں ہوتا ہے؟ جی، یہ صرف اس دنیا میں ہوتا ہے جہاں کے حکمران مافیا کے سرپرست، عدالتیں انصاف سے دور اور لوگ اپنے حکمرانوں اور عدالتوں سے مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہمارا اپنا معاشرہ، قوم اور ملک اور اس کے ادارے کسی حوصلہ افزا حالات کی تصویر پیش نہیں کر رہے۔ معاشرے کے عام افراد بے یار ومددگار ہیں۔ یہ سب مایوس کن عوامل اس کیس میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔















