کتاب اور علم کے طالب کا رشتہ ایسا ہے جیسے روح اور جسم۔۔ کتاب ہماری تنہائیوں کی ساتھی ہے، روشنی کی کرن بن کر اُمید دلاتی ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر دو دن کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تیسرے دن گفتگو میں نہ شیرینی رہتی ہے، نہ ہی دلیل، انداز تکلم بدل جاتا ہے۔ کتابوں کا مطالعہ ہمیں ٹھوس دلائل دینے اور بات کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ دنیا میں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ تحریر کیے گئے علم اور کتابوں ہی کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ آج جدید دور میں مطالعے کے نئے نئے ذرائع متعارف کروائے گئے ہیں کیونکہ ٹیکنالوجی کے باعث علم کے حصول میں انقلاب برپا ہو چکا ہے مگر کتابوں کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم اور دائم ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ کتاب انسان کو عملی میدان میں گامزن ہونے کی ترغیب دیتی ہے اور اس اعتبار سے کتاب ہماری صرف رفیق تنہائی ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا حال اور مستقبل کی محسن بھی ہیں۔ کچھ کتابیں خاص ہوتی ہیں جن میں تاریخ رقم ہوتی ہے ان میں بھی وہ کتابیں جو کہ اسلامی تحریکوں کی تاریخ اپنے صفحات پر محفوظ رکھتی ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے بصیرت اور حوصلے کا سرچشمہ بنتی ہیں۔
یہ تمہید دراصل ایک خاص کتاب کا ذکر کرنے کے لیے ہے یہ کتاب ہے ’’جاوداں پیہم رواں‘‘ اسے تاریخ جماعت اسلامی کی کمیٹی حلقہ خواتین کی جانب سے تدوین کیا گیا ہے اس سے پہلے اس کمیٹی کے تحت دو کتابیں روشن آبگینے اور قیادت کا سفر اشاعت کے مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ روشن آبگینوں میں ان مرحوم رہنما خواتین کے شخصی خاکے ہیں جن سے کارکن کو سیرت اور کردار کی پختگی کے لیے عملی مثالیں ملتی ہے اور قیادت کا سفر جماعت اسلامی کی تین قیمات عائشہ منور، ڈاکٹر کوثر فردوس اور ڈاکٹر رخسانہ جبیں کے طویل انٹرویوز پر مشتمل ہیں جس کے ذریعے سے 1994 سے لے کر 2014 تک کی تاریخ کو تر تیب کو دیا گیا ہے، اب یہ کتاب جاوداں پیہم رواں کے نام سے منظر پر عام پر آنے والی تیسری کاوش ہے جس میں حلقہ خواتین کے قیام سے لے کر ان کی پہلی قیمہ محترمہ حمیدہ بیگم کے دور قیادت کے اختتام یعنی 1973 تک کی روداد کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی مرتبہ محترمہ روبینہ فرید صاحبہ کہتی ہیں کہ اس کتاب کو مرتب کرتے ہوئے میں نے خود کو بیک وقت دو دنیاؤں میں سفر کرتے ہوئے دیکھا۔ تاریخ کی دنیا میں سفر کرنا ایک ٹائم مشین کے سفر سے کم تھا۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو دارالاسلام کے چھوٹے سے گھر میں پایا، کبھی سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تقاریر سنتے محسوس کیا، کبھی محترمہ حمیدہ بیگم کی محبت و شفقت کی امین بنی اور کبھی نظام اسلام کی مہم منائی اور چلائی، کبھی 1965 کی جنگ میں فتحیابی کی خوشی منائی اور کبھی 1971 میں سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے سے دل گرفتہ ہوئی۔ اپنی دنیا میں واپس آ کر اپنی کارکردگی اور عمل کو ان سابقات الاول کے عمل کے مقابلے میں بہت کم تر محسوس کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس تاریخ کو لکھے جانے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ نصب العین کی خاطر رفتار تیز کرنے کا جذبہ کشید کیا جائے۔ اس کتاب کو پڑھ کر پاکستان کی تاریخ کے پس منظر میں جماعت اسلامی کی پالیسیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں آپ کو دونوں ساتھ ساتھ ملیں گیں اس میں جماعت اسلامی کی ابتدائی جدوجہد میں شریک ہونے والی خواتین کی کارکردگی کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کے ابواب کے عنوان دلچسپ ہیں جیسے علامہ اقبال کی نگاہِ انتخاب، علامہ اقبال اور سید مودودی، خواتین کی ذہن سازی میں ترجمان القران کا کردار، اوّلین مجاہدہ، اقبال کی وفات کا صدمہ، دار الاسلام کی پہلی خاتون رکن، سیاسی مد و جزر پر مولانا کا اضطراب وغیرہ۔ کتاب کی اہم بات حوالوں کی موجودگی ہے۔ جو بات تحریر کی گئی اس کی تاریخی سند کتابوں اور ان کے صفحات کے نمبروں کے ساتھ موجود ہے۔ تحریک اسلامی کے ہر مجاہد کو اپنے سفر کے نشیب و فراز سے گزرنے اور منزل مقصود تک بآسانی پہنچنے کے لیے اس کتب میں بہت کچھ زاد راہ ملے گا لہٰذا انہیں خود بھی اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اور احباب کو بھی ہدیہ دینا چاہیے۔















