قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

Allah

یہودی کہتے ہیں: عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں عیسائی کہتے ہیں: یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں اور اسی قسم کے دعوے ان لوگوں کے بھی ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا۔ اوراس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی، تو ڈرتے ہوئے جائیں ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔ (سورۃ البقرۃ:113تا114)

ایک بار نبی کریمؐ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپؐ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپؐ اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔ جب آپؐ اپنی باتیں پوری کر چکے تو آپؐ نے یوں فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا اس (دیہاتی) نے کہا (یا رسول اللہ!) میں موجود ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب امانت (ایمانداری دنیا سے) اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر۔ اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔ (بخاری)

مزید خبریں

Scroll to Top