کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) اورنگی ٹاؤن میں پیر آباد پولیس نے نجی اسپتال کے طبی عملے کی مبینہ شدید غفلت اور لاپروائی کے نتیجے میں ایک ماہ کے شیر خوار بچے کا ہاتھ کاٹنے کے دردناک واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی متاثرہ بچے کے والد کی مدعیت میں نجی اسپتال کے ڈاکٹر اور دیگر نامعلوم طبی عملے کے خلاف عمل میں لائی گئی ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ پیر آباد تھانے میں بجرم دفعات 336 اور 337 ایچ ون کے تحت 9 ستمبر کو درج کیا گیا۔ پولیس ایف آئی آر کے مطابق بچے کے ساتھ مبینہ طبی غفلت کا یہ افسوسناک واقعہ 31 اگست کو اورنگی ٹاؤن میں قائم ایک نجی اسپتال میں پیش آیا تھا۔مقدمے کے مدعی عزت اللہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ 31 اگست کی شام 6 سے 7 بجے کے درمیان ان کے ایک ماہ کے بیٹے عظمت اللہ کی طبیعت ناساز ہوئی، جس پر وہ اسے نزدیک واقع نجی اسپتال لے گئے۔ وہاں موجود ڈاکٹر کی ہدایت پر تین نامعلوم پیرا میڈیکل اسٹاف نے بچے کو اینٹی بائیوٹک دینے کے لیے اس کے بائیں ہاتھ پر کینولا لگا کر پٹی کر دی۔ اس کے بعد بچے کو مختلف اوقات میں 6 سے 7 بار اسی کینولا کے ذریعے انجکشن دیے گئے۔بچے کے والد نے دردناک تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ چار دن بعد جب وہ دوبارہ بچے کو اسپتال لے گئے اور ڈاکٹر نے پٹی کھولی تو بچے کا پورا ہاتھ سیاہ ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر نے صورتحال کی سنگینی کو چھپاتے ہوئے بروفین اور پیناڈول جیسی ادویات دے کر روانہ کر دیا اور کہا کہ بچہ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ تاہم انفیکشن تیزی سے پھیلتا دیکھ کر وہ بچے کو فوری طور پر جناح اسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ ابتدائی طور پر غلط کینولا لگانے کی وجہ سے شدید انفیکشن پھیل چکا ہے اور بچے کی جان بچانے کے لیے اس کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔بعد ازاں، والدین بچے کو ایک اور نجی میڈیکل کمپلیکس لے گئے جہاں ماہرین جراحت نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ غلط کینولا لگنے کی وجہ سے انفیکشن زہر کی طرح پھیل چکا ہے اور بچے کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ اس کا بازو کاٹنا ہے۔ بالآخر سرجری کر کے ایک ماہ کے معصوم عظمت اللہ کا بایاں ہاتھ بازو تک کاٹنا پڑا۔متاثرہ والد نے پولیس سے استدعا کی کہ نجی اسپتال کے ڈاکٹر اور غفلت کے مرتکب اسٹاف کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ پیر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے کیس مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے جو ملوث افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔















