کراچی ( اسٹاف رپورٹر )منگھوپیر کے علاقے میں گھر کے اندر ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 16 سالہ پوزیشن ہولڈر طالب علم روشم کی ہلاکت کے خلاف اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے۔ مقتول کے لواحقین منگھوپیر تھانے کے باہر میت کے ہمراہ خیمے زن ہیں، جس کے باعث علاقے میں انتظامی اور سیکورٹی صورتحال کشیدہ ہے اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔احتجاج میں شریک مظاہرین اور مقتول کے لواحقین کا مؤقف ہے کہ پولیس واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ مظاہرین نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، ان کا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا اور وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔مقتول روشم کے والد ڈاکٹر روئیداد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے نمازِ جمعہ بھی دھرنے کے مقام پر ہی ادا کیا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں اعلان کیا کہ جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا اور قاتل سلاخوں کے پیچھے نہیں دھکیلے جاتے، وہ اپنے معصوم بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہر قیمت پر قاتلوں کی گرفتاری اور شفاف انصاف چاہیے۔















