کراچی( اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی کو دھمکیاں دینے کا کیس، پولیس نے نامزد مرکزی ملزم کونین شاہ کو عدالت میں پیش کیا ۔عدالت نے استفسار کیاکہ کیس کے تفتیشی افسر کہاں ہیں ،کیس کا تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ مدعی مقدمہ کی جانب سے وکیل عدالت میں پیش ہوئے ان کاکہناتھا ملزم نے عبوری ضمانت کے بعد مدعی مقدمہ کو دھمکیاں دی ہیں،ملزم کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنا ہے اور موبائل فون بھی برآمد کرنا ہے ،ملزم نے ضمانت کا غلط استعمال کیا ہے ،ملزم سے مرکزی کیس میں اسلحہ بھی برآمد کرنا ہے ،تفتیشی افسر کاجوڈیشل مجسٹریٹ ملیرکی عدالت میں کہنا تھا کہ ملزم سے تفتیش کرنی ہے جسمانی ریمانڈ دیا جائے،ملزم کے وکیل کاکہناتھا کہ کیا تفتیشی افسر نے مدعی مقدمہ کا پیش نہیں کیا ہے نا ہی ایسا کوئی دھمکی آمیز میسج پیش کیا ہے ،میرا نمبر ہوٹل کے کاؤنٹر پر لکھا ہے کوئی بھی غلط استعمال کرسکتا ہے ،ملزم کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے ،ملزم کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ، ملزم کے خلاف لگائی گئی دفعات لاگو نہیں ہوتی ہیں ،ملزم کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے ملزم ایک معزز فیملی سے تعلق رکھتا ہے ،میری استدعا ہے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے ،ہم مدعی مقدمہ کے گھر گئے تھے ملزم کا والد بھی تھا ہم نے کہا کہ ہم کمپرومائز کرنا چاہتے ہیں ،فیک وڈیو چلائی جارہی ہے کوئی فرانزک نہیں ہوئی ہے واقعہ دن کا بتایا جارہا ہے وڈیو رات کی چلائی جارہی ہے ،ملزم کو گھر سے حراست میں لیا گیا ہے ہمارے پاس وڈیو ہے ،وکیل نے وڈیو عدالت میں پیش کردی عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد ملزم کونین شاہ کوتین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔















