امریکا 11 ستمبر کے حملوں کو کبھی نہیں بھول سکتا،دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی،ٹرمپ

واشنگٹن،تہران،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون میں نائن الیون حملوں کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا 11 ستمبر کے حملوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے، جبکہ امریکا آج بھی اسی عزم اور وفاداری کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آج بھی جاری ہے اور امریکا کے پاس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ایرانی جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا۔علاوہ ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ان کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہنے کا کوئی امکان نہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے ایران جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اپنے مؤقف میں کہا کہ یہ تنازع اتنا طویل نہیں ہوگا کہ ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہے۔ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی۔تاہم ٹرمپ کے اس پْراعتماد مؤقف کے برعکس وائٹ ہاؤس کے بعض اعلیٰ حکام نے نجی طور پر جنگ کے طویل ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے اور تنازع ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی کھنچ سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں، چاہے اس کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی پر منفی اثر ہی کیوں نہ پڑے۔ رائٹرز کے مطابق فاکس نیوز کی میزبان لورا انگراہم کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ یہی فیصلہ کرنا پڑے تو وہ بالکل اسی طرح کارروائی کریں گے۔ٹرمپ نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کردیا کہ جنگ کی وجہ سے ان کے حامی مایوس یا بددل ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے حامی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔علاوہ ازیںامریکی نیوز ویب سائٹ ایکزیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹیلی فون کالیں کیں اور انھیں حوثیوں کے خلاف حملے کرنے کی درخواست کی۔ایگزیوز نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی درخواست مسترد کر دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی انتظامیہ حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر جمعرات کے روز ہنگامی طور پر سعودی عرب گئے۔ایگزیوز کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجی اور سویلین حکام نے اپنے سعودی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق امریکا کی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ پر مرکوز رہے گی، جبکہ ایک اور فوجی محاذ کھولنے سے گریز کیا جائے گا۔دریں اثناء ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک نامعلوم فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ مغربی ساحل پر جو کچھ بھی ہمارے کنٹرول میں تھا، وہ سب ہاتھ سے نکل گیا ہے۔فوجی عہدیدار کے مطابق حوثیوں نے آبنائے باب المندب میں واقع دو مزید جزائر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔یہ دعویٰ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حوثی گروپ نے عالمی جہاز رانی کے لیے اہم آبی گزرگاہ میں واقع پیریم جزیرے کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔علاوہ ازیںبرکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق، جمعہ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان ’مشترکہ تعاون کے فروغ اور اسٹریٹیجک معاہدوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممالک کے رہنماؤں میں روس اور چین کے صدور بھی شامل ہیں۔ برکس اقتصادی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکاری اور مالیاتی شعبوں میں مزید قریبی تعاون پر زور دیا۔امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ممالک کے درمیان ہونے والی جائز تجارت کو خطرہ لاحق ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو وسعت دینا اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ باہمی ادائیگیوں کے لیے ضروری مالیاتی نظام کا قیام بھی ناگزیر ہے۔دوسری جانب پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کو اپنے علاقے کے دفاع، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ اور قومی اثاثوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔پاکستان کے خارجہ سیکرٹری عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مؤقف کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور مملکت کو درپیش کسی بھی خطرے کے مقابلے میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ادھرایران کا کہنا ہے کہ وہ سوموار کے مسقط میں ہونے والے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے فروغ کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع ہے، جو خطے سے باہر کے عناصر کی تباہ کن مداخلتوں سے دور رہتے ہوئے حاصل کی جا سکتی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ بحری راستوں کے تعین سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نقشے پر عمان کے ساتھ ایک مفاہمت تک پہنچ چکا ہے اور اس سلسلے میں ایک مشترکہ اعلامیے پر مذاکرات جاری ہیں۔ قبل ازیںایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ایرانی حکومت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کے علاقائی امن و استحکام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے خطے کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔یہ فون پر بات چیت یمن میں تنازع کے تناظر میں ہوئی ہے۔سعودی عرب خطے میں عرب ممالک کا ایک فوجی اتحاد بنا کر یمنی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے اور ایران پر بارہا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں حوثیوں کو ہتھیار اور فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، تاہم وہ حوثیوں کی فیصلہ سازی میں کسی مداخلت کی تردید کرتا ہے۔ادھرایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر نے آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو سراہتے ہوئے اسے شاندار فتح قرار دیا، انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں انصار اللہ کو مبارکباد بھی دی۔علاوہ ازیں ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی قرارداد مسترد کردی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر ایران کا مؤقف پیش کیا۔غلام حسین درزی نے کہا کہ ایران کے پْرامن جوہری پروگرام سے متعلق نئے الزامات تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں، ایران جوہری پروگرام کے حوالے سے بے بنیاد الزامات اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق آئی اے ای اے ایران میں یورینیم کی باقیات سے متعلق معائنے کے معاملے کو پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیج چکی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top