ریاض: سعودی عرب نے سمندری تجارت اور مال بردار جہازوں کو جنگی اور سیکیورٹی خطرات سے پیدا ہونے والے مالی نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی انشورنس پول قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اقدام بحیرہ احمر اور خلیج عرب جیسے حساس آبی راستوں پر تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس نئے نظام کے تحت مملکت میں سامان اور بحری جہازوں کو درپیش جنگی خطرات کے لیے ایک مشترکہ انشورنس فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔
جب بھی بین الاقوامی سطح پر حالات کشیدہ ہوتے ہیں، عالمی انشورنس ادارے پریمیم میں ہوشربا اضافہ کر دیتے ہیں یا سروس دینے سے گریز کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا یہ مقامی حل بیرونی انحصار ختم کرکے قومی معیشت کو مالی تحفظ فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ صرف کاغذ تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکومتی مالیاتی ضمانت اور نجی انشورنس کمپنیوں کی صلاحیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس نظام کا آپریشنل انتظام ‘سعودی ری’ سنبھالے گی، جبکہ انشورنس اتھارٹی، وزارت خزانہ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی اس پورے عمل کی نگرانی کرے گی۔ اس اشتراک سے خطرات کو آپس میں تقسیم کرنا ممکن ہوگا۔
نئے انشورنس نظام کا دائرہ کار صرف سمندری سامان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں جہازوں کے ڈھانچے، کرایہ داروں کی قانونی ذمہ داریوں، اور فضائی و زمینی مال برداری کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔
یہ سہولت جدہ، ینبع، دمام اور جبیل سمیت تمام بڑی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں کے لیے دستیاب ہوگی۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد سپلائی چین کو ٹوٹنے سے بچانا ہے تاکہ بحران کے وقت بھی اشیائے ضروریہ کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔
سعودی وژن 2030 کے تحت ملک کو عالمی لاجسٹک مرکز بنانے کے عزم میں یہ نظام ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے کاروباری معاہدوں میں پائیداری آئے گی اور تاجروں کا اعتماد بحال رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق عام صارفین کے لیے اس کا فائدہ بالواسطہ اور ٹھوس ہوگا۔ جب درآمد کنندگان کو انشورنس کا سستا اور یقینی تحفظ ملے گا، تو اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کا بوجھ کم ہوگا۔
یہ نظام بین الاقوامی انشورنس مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے منفی اثرات کو محدود کرکے مقامی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔















