نئی دہلی: مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں بھارت کی مالی ساکھ شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کا بھارتی مارکیٹ پر سے اعتماد تیزی سے ختم ہونے لگا ہے جس سے معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اب بھارت کے بجائے ترقی یافتہ ممالک کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ اپنا سرمایہ محفوظ رکھ سکیں اور بہتر منافع کما سکیں۔ اگست کے مہینے سے اب تک غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی بانڈز سے تقریباً 987 کروڑ روپے نکال چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی مارکیٹ میں شرح منافع کا فرق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے بھارتی منڈی کی کشش کافی حد تک کم ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال ملکی معاشی استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
عالمی ادارے بلومبرگ کی جانب سے بھارتی مقامی قرضوں کو بین الاقوامی انڈیکس میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ بھارت کے لیے ایک بڑا معاشی جھٹکا ثابت ہوا ہے۔ اس اقدام نے بھارتی معیشت کی عالمی سطح پر ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کار ابھینو تریویدی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھارتی منڈیوں میں منافع کی شرح بہت کم رہ گئی ہے جبکہ بلند مالیت، کرنسی کی کمزوری اور بھاری ٹیکسوں نے سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید مشکل اور غیر سودمند بنا کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار کی جانب سے اپنائی گئی معاشی حکمت عملی بھارت کی مالی کمزوریوں کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ غلط پالیسیوں کے سبب عالمی سطح پر بھارتی معاشی نظام کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے جس سے سرمایہ کاری کا بہاؤ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر مودی حکومت کی معاشی ترجیحات پر عالمی حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اب عملی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایے کا تیزی سے انخلا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔















