پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات، مشترکہ اپوزیشن اور آل پارٹیز کانفرنس پر اتفاق

Jui-Meet-PTI

تحریک انصاف کے وفد نے آج جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی اور قومی معاملات پر مشاورت کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے وفد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر شامل تھے۔ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کے دیگر رہنماؤں نے تحریک انصاف کے وفد کا استقبال کیا، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے دوران اپوزیشن کی احتجاجی تحریک، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام سمیت مختلف سیاسی امور پر گفتگو کی گئی۔ فریقین نے قومی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور مشترکہ پلیٹ فارم سے مشاورت آگے بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے جوائنٹ اپوزیشن کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن کے حوالے سے اتفاق رائے پایا گیا ہے اور آج اس سلسلے میں پہلی باقاعدہ میٹنگ ہوئی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ قومی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ صوبوں کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جارہی ہے جبکہ جوائنٹ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے اسمبلی اجلاس، قیدیوں کے معاملات اور دیگر اہم امور پر متفقہ مشاورت کی جائے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی پہلی ملاقات خوش آئند رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا،اپوزیشن جماعتیں قومی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے اور سیاسی مشاورت کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے تحریک انصاف کے وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مشاورتی اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر بات چیت ہوئی۔ ملک میں صوبوں کے قیام سمیت مختلف اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی، دہشت گردی اور دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی۔ ملک اس وقت مختلف بحرانوں اور مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اس لیے سیاسی جماعتیں مل کر ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گی۔

مزید خبریں

Scroll to Top