ایران جنگ پر کوئی پچھتاوا نہیں، آئندہ بھی ایسا ہی قدم اٹھائیں گے، ٹرمپ

trump

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے ایک انٹرویو میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر انہیں دوبارہ ایسا فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو وہ وہی کریں گے۔

امریکی صدر نے ان قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے ان کے حامی مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ووٹرز کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روک رہے ہیں۔

امریکی سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ جنگی حالات کی وجہ سے پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکن امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، تاہم ٹرمپ نے ان خدشات کو اہمیت نہ دیتے ہوئے اپنا سخت گیر مؤقف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری یہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے نتائج سے قطع نظر، قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ ان کی ترجیح رہے گا اور وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

دوسری جانب امریکی عوام میں جنگی پالیسیوں کے حوالے سے حمایت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکی شہریوں نے ہی ایران کے خلاف جنگ کو درست اور قابلِ قدر قرار دیا ہے، جو موجودہ انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں انتخابی ماحول گرم ہو رہا ہے۔ جنگ کے معاشی اثرات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے جس کا براہِ راست اثر ووٹوں پر پڑے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگی فیصلوں کا بھرپور دفاع ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنی جارحانہ پالیسی پر کسی بھی قسم کی سمجھوتا کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top