پٹرولیم لیوی اور ٹیکس کی ظالمانہ وصولی  کیخلاف جماعت اسلامی کا گورنر ہاؤس پر دھرنا 27ویں روز بھی جاری

Dahrna

کراچی: پٹرولیم لیوی اور ٹیکس کی ظالمانہ وصولی اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس پر جماعت اسلامی کا دھرنا 27ویں روز بھی جاری رہا۔ دھرنا گاہ میں جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینز کے ہمراہ کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ٹاؤن چیئرمینز نے اپنی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی اور بڑی اسکرین کے ذریعے اپنے اپنے ٹاؤنز میں ہونے والے ترقیاتی و عوامی فلاحی کاموں کی پریزینٹیشن بھی دکھائی۔

کھلی کچہری میں دھرنے کے شرکا نے ٹاؤن چیئرمینز سے مختلف سوالات کیے، جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد صرف انتخابات جیتنا یا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ایک بہتر نظام قائم کرنا ہے۔ بلدیاتی اداروں میں جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود عملی مثال قائم کی ہے کہ اگر عوامی نمائندے اپنے علاقے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کر کام کریں تو تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کو ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں، انہیں مکمل اختیارات دیے جائیں اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تو کراچی کے مسائل بڑی حد تک حل کیے جاسکتے ہیں۔ کراچی کے عوام کو خیرات نہیں بلکہ اپنا حق چاہیے، بلدیاتی نمائندوں کو وسائل اور اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرسکیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کی کارکردگی براہِ راست عوام کے سامنے رکھنا ہے تاکہ شہری دیکھ سکیں کہ جن نمائندوں کو مناسب وسائل فراہم نہیں کیے گئے، انہوں نے دستیاب وسائل میں کیا کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر وسائل کا درست استعمال ہو، ترجیحات طے ہوں اور کرپشن کے بجائے خدمت کو ترجیح دی جائے تو کراچی کے بلدیاتی ادارے شہریوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے ٹاؤن چیئرمینز کی ذمہ داری کو ’’تھینک لیس جاب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات عوامی خدمت میں مصروف رہتے ہیں لیکن ان کی محنت اور کارکردگی کو اجاگر کرنے کے بجائے عموماً صرف ان کاموں کا ذکر کیا جاتا ہے جو وسائل کی کمی یا دیگر رکاوٹوں کے باعث مکمل نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ تمام تر کمی و کوتاہی، محدود وسائل اور ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود جماعت اسلامی کراچی کے ٹاؤن چیئرمینز اور پوری ٹیم نے گزشتہ تین سال کے دوران تاریخی اور مثالی کام کیے ہیں۔

منعم ظفر خان نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ٹاؤنز کو ترقیاتی کاموں کے لیے ایک پیسہ بھی ترقیاتی فنڈز کی مد میں نہیں دیا گیا، اس کے باوجود جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے بلکہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے مختلف کاموں کے عوض ٹاؤنز کو حاصل ہونے والی رقم بھی عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی گئی اور اس سے کئی اہم کام مکمل کیے گئے۔

منعم ظفر خان کے مطابق جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کے پاس وسائل محدود ہیں لیکن خدمت کا جذبہ، منصوبہ بندی اور کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ٹاؤنز میں ایسے منصوبے مکمل کیے گئے جو شہریوں کے لیے براہِ راست سہولت کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کارکنان، ذمہ داران اور شہریوں پر زور دیا کہ ٹاؤنز کی کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے، سوشل میڈیا مؤثر ذریعہ ہے اور ٹاؤن چیئرمینز کے کاموں کی تصاویر، ویڈیوز اور تفصیلات مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جائیں تاکہ شہریوں کو معلوم ہوسکے کہ محدود وسائل میں بھی ان کے منتخب نمائندے کیا کچھ کررہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں 234 پارکس اور 74 اسکولوں کو ازسرنو بحال کیا گیا، یہ صرف عمارتوں کی مرمت یا رنگ و روغن کا معاملہ نہیں بلکہ ان اداروں اور عوامی مقامات کو دوبارہ فعال اور قابل استعمال بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارکس کی بحالی سے خصوصاً بچوں اور خاندانوں کو بہتر ماحول فراہم ہوا، جبکہ اسکولوں کی بہتری سے سرکاری تعلیمی اداروں پر شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں صرف عمارتوں کو بہتر بنانا کافی نہیں بلکہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت اساتذہ کی تربیت کے لیے مختلف ورکشاپس اور ٹریننگ پروگرامز منعقد کیے گئے، جن میں تدریس کے حوالے سے جدید طریقہ کار اور نئے آئیڈیاز فراہم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا ہے۔ پرائمری ہیلتھ کیئر پہلے تقریباً صفر تھی اور بنیادی مراکز صحت عملاً فعال نہیں تھے، جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے اس شعبے پر توجہ دی۔

ان کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران تقریباً 10 ہزار مریضوں نے ان طبی سہولیات سے استفادہ کیا ہے۔ گلبرگ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کلینک قائم کیا گیا ہے جہاں شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور صبح سے شام تک پرائمری ہیلتھ کیئر کی خدمات جاری رہتی ہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد یہ ہے کہ عام آدمی کو بنیادی علاج کے لیے دور دراز علاقوں میں نہ جانا پڑے بلکہ اسے اپنے علاقے میں ہی بنیادی طبی سہولیات میسر ہوں۔

دوسری جانب نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے ٹاؤن چیئرمینز کے ہمراہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کراچی کی نمبر ون پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں عجیب چمتکار ہوتے ہیں کہ جیتنے والوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا، ایسے چمتکار صرف پاکستان میں ہی ہوسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی لیکن اس کے باوجود بہت سارے ٹاؤنز جماعت اسلامی سے چھین لیے گئے، جن میں سے صرف 9 ٹاؤنز ہی بچائے جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا بجٹ ہزاروں ارب روپے پر مشتمل ہے جبکہ ایک ٹاؤن کے پاس محض 3 یا 4 کروڑ روپے کے وسائل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کا ہر ٹاؤن چیئرمین نت نئے آئیڈیاز اور اپنی دستیاب صلاحیتوں و وسائل کو بروئے کار لاکر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور محدود وسائل میں بھی قابل ذکر کام کررہا ہے۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ اس کے برعکس دیگر ٹاؤنز اور یوسیز میں بجٹ اور وسائل موجود ہونے کے باوجود عوام کو عملی طور پر کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، وہاں ’’سوائے کرپشن کے کچھ نہیں ہورہا‘‘۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے بلدیاتی نمائندوں کو مکمل اختیارات اور مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرسکیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top