عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 108 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

Crude oil prices drop by 7%

نیویارک: عالمی منڈی میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس صورت حال کے پیش نظر سرمایہ کاروں میں سپلائی میں رکاوٹ کا خوف پایا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری تناؤ کے اثرات براہ راست عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں جو قیمتوں میں اضافے کا سبب ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ہی دن کے دوران تقریباً 7.1 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کاروباری دن کے اختتام پر برینٹ خام تیل 107.63 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو کہ 19 مئی کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ بلند ترین اختتامی قیمت قرار دی جا رہی ہے۔

امریکی خام تیل یعنی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے اور یہ پہلی بار مئی کے بعد 103 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ بعد ازاں یہ 102.48 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 6.69 فیصد اضافہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کا عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے نے سپلائی چین کے حوالے سے عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کو شدید بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران ایک روزہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف معاشی استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ایندھن کی قلت کے خدشات نے دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

مستقبل قریب میں اگر مشرق وسطیٰ کی عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کے اہم راستوں پر کشیدگی کے سائے برقرار رہنے سے قیمتوں کا گراف اوپر کی جانب ہی گامزن رہنے کا قوی امکان موجود ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top