امریکا میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی 25ویں برسی آج منائی جارہی ہے، جس کے موقع پر نیویارک، واشنگٹن اور پنسلوانیا سمیت مختلف مقامات پر یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
11 ستمبر 2001 کو دہشت گردوں نے 4 مسافر طیارے ہائی جیک کیے تھے۔ 2 طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرائے، تیسرا طیارہ پینٹاگون سے ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 2,977 افراد ہلاک ہوئے جبکہ بعد میں زہریلی گرد و غبار سے متاثر ہونے والے متعدد افراد بھی مختلف بیماریوں کے باعث جان سے گئے۔
25ویں برسی کے موقع پر نیویارک کے گراؤنڈ زیرو، پینٹاگون اور فلائٹ 93 کے مقام پر خصوصی یادگاری تقریبات جاری ہیں۔ تقریبات کے دوران متاثرین کی یاد میں خاموشی اختیار کی جارہی ہے، پھولوں کی چادریں چڑھائی جارہی ہیں اور حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام پڑھ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔
نیویارک میں ہونے والی مرکزی تقریب میں متاثرین کے اہل خانہ کی بڑی تعداد شریک ہوگی اور 2,977 افراد کے نام پڑھ کر سنائے جائیں گے۔ اس موقع پر ان افراد کو بھی خصوصی طور پر یاد کیا جارہا ہے جو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد پھیلنے والی زہریلی گرد و غبار سے متاثر ہوئے اور بعد ازاں مختلف بیماریوں کے باعث انتقال کرگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پینٹاگون میں ہونے والی یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نیویارک میں 9/11 میموریل کی تقریب میں شریک ہوں گے۔
11 ستمبر کے حملوں نے امریکا کی داخلی اور خارجی پالیسی کو بھی نمایاں طور پر تبدیل کردیا۔ حملوں کے بعد امریکا نے افغانستان اور عراق میں جنگیں شروع کیں، ہوم لینڈ سکیورٹی کا محکمہ قائم کیا اور نگرانی و انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو وسیع کیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت انگیز واقعات میں اضافے کی بحث بھی سامنے آئی۔
25 سال گزرنے کے باوجود 11 ستمبر کے حملوں کی یاد امریکی معاشرے میں گہری موجود ہے،تقریباً نصف امریکی بالغ افراد اس سانحے کو اپنی زندگی کا سب سے اہم تاریخی واقعہ قرار دیتے ہیں جبکہ نئی نسل 9/11 کو زیادہ تر تعلیمی اور تاریخی تناظر میں جان رہی ہے۔















