تحریکِ اسلامی کا مسلکِ اعتدال

تحریکِ اسلامی کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے فقہی مسالک کے اختلاف کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ اس کے وابستگان میں تمام مسالک کے لوگ شامل ہیں۔ وہ اپنے اپنے مسلک پر عمل کرتے ہوئے اجتماعی طور پر اقامتِ دین کی جدّوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے اندر اپنے فقہی مسلک کے لیے تعصّب کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ یہ نتیجہ ہے اس چیز کا کہ بانیٔ تحریک نے بہت صاف الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ فقہی تعصّب رکھنے والے کے لیے اس تحریک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا:
”ہماری جماعت میں اہل حدیث، احناف، شوافع (شافعیہ) اور ایسے ہی دوسرے فقہی طریقوں پر چلنے والے مسلمانوں کے لیے اپنے اپنے فقہی مسلک پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے۔ بشرطے کہ وہ ان مسلکوں میں سے کسی کے لیے متعصّب نہ ہوں اور ان اختلافات کو مغایرت اور جتّھہ بندی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ جماعت کے اندر جو لوگ بھی شامل ہوں انہیں اسلامی عصبیت کے سوا اور ساری عصبیتیں اپنے اندر سے نکالنی ہوں گی، خواہ وہ وطنی عصبیتیں ہوں، نسلی ہوں، طبقاتی ہوں یا گروہی۔ ان کو محبّت اور دوستی کے رشتے میں جوڑنے والی چیز اسلام کے سوا اور کوئی نہ ہو اور ان کے اندر غصّہ اور نفرت کو بھڑکانے والی بھی اسلام سے دوری کے سوا کوئی دوسری چیز نہ ہو۔ کسی رکن جماعت کے لیے کسی دوسرے شخص کا اہل حدیث یا حنفی یا شافعی مسلک پر ہونا یا اسے اختیار کر لینا نہ تو سبب محبّت ہی ہو اور نہ سبب نفرت۔ اسی لازمی و ضروری شرط کے ساتھ اہل حدیث، اہل حدیث رہتے ہوئے اور حنفی، حنفی رہتے ہوئے اور شافعی، شافعی رہتے ہوئے جماعت اسلامی کا رکن ہو سکتا ہے۔ لیکن جو شخص کسی مخصوص فقہی مذہب کے لیے متعصّب ہو اور اپنے مذہب کے پیرؤوں سے محبّت اور دوسرے طریقے والوں سے نفرت رکھتا ہو اور حنفی، شافعی، اہل حدیث ہو جانے کو جرم سمجھتا ہو، اس کے لیے ہماری اس جماعت میں کوئی جگہ نہیں“ (رسائل و مسائل، دوم، ص 326)۔
فروعی اختلافات کا معاملہ صرف فقہ کے دائرے ہی میں منحصر نہیں ہے، بلکہ دیگر پہلو بھی اس میں شامل ہیں۔ بنیادی امور اور فروعی اختلافات کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے۔ تحریکِ اسلامی کا نصب العین اقامت دین ہے۔ کوئی شخص اس سے اتفاق نہ رکھے اور دین قائم کرنے کے لیے اجتماعی جدّوجہد پر یقین نہ رکھتا ہو تو اسے تحریک میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس سے پورے طور پر متّفق ہونے کے بعد اگر فروعی معاملات میں کوئی کارکن دوسرے کارکنوں یا ذمے داروں حتّیٰ کہ بانیٔ تحریک سے اختلاف کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تمام وابستگانِ تحریک کو ہر معاملے میں ایک رائے پر جمع کرنے کی کوشش بے سود ہے اور یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ عالم عرب کے ایک دانش ور ڈاکٹر جمال سلطان نے لکھا ہے:
”تحریکِ اسلامی کے بعض افراد یہ تصور رکھتے ہیں کہ کسی سنجیدہ اسلامی تحریک یا تنظیم کے افراد ایک دوسرے سے علیٰحدہ نظریہ و رائے، بلکہ ایک دوسرے سے متضاد اور مخالف رائے نہیں رکھ سکتے، ضروری ہے کہ تحریک کی قیادت کا اختیار کیا ہوا نظریہ ہی تمام افرادِ تحریک کا بھی نظریہ ہو، تحریک کے کسی بھی کارکن کے لیے اس سے ہٹ کر کوئی رائے اور نظریہ اختیار کرنے کا جواز ہی نہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی اور تمام مفاسد کا سرچشمہ ہے“ (اختلاف: اسباب و آداب)۔
یہ ہے اختلافی امور میں تحریکِ اسلامی کا مسلکِ اعتدال، جسے میں نے سلفِ صالحین، مستند علما اور خود بانیٔ تحریک کے افکار کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی کبھی ہمارے درمیان اس معاملے میں بے اعتدالی کا مظاہرہ ہونے لگتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ راہِ اعتدال پر مضبوطی سے جمے رہیں اور ہمارے قدم اِدھر اُدھر ڈانواڈول نہ ہوں۔

مزید خبریں

Scroll to Top