عبدالرحمٰن صالح
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تو اپنی محبت کا معیار وتقاضا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت واتباع ہی کو قرار دیا ہے: ’’اے نبیؐ! لوگوں سے کہیے کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری اتباع کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں کو معاف فرما دے گا۔ وہ بہت معاف فرمانے والا اور رحیم ہے‘‘ (اٰل عمرٰن: 31)۔ اسی لیے رسول اللہ کی مکمل اتباع واطاعت میں کوتاہی ایمان کے منافی ہے (تفسیر احسن البیان)۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ۔۔۔ (الاحزاب: 33) کے معنی کے دوسرے پہلو کے لازمی تقاضے، یعنی زندگی کے ہر دائرے کے ہر معاملے میں رسول اللہ کی مکمل اتباع واطاعت کی مزید تاکید سورۃ الاحزاب میں ہی یوں فرمائی: ’’یقیناً تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (کی رضا) اور یوم آخر میں کامیابی کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو، رسولؐ (کے طرزِ زندگی) میں اسوۂ حسنہ (بہترین نمونہ، رول ماڈل) ہے‘‘ (الاحزاب: 21)۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے رسولؐ اللہ کی پوری زندگی کو مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اسلامی تعلیمات کا خلاصہ وتقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے ہر انفرادی واجتماعی معاملے میں آپؐ کے طرزِ زندگی کو ہی اپنے لیے أسوۃ (رول ماڈل) بنائیں اور اس کے مطابق اپنے فکر وعمل، سیرت و کردار، پسند وناپسند اور ترجیحات کو ڈھالیں۔ کیونکہ دنیا وآخرت میں کامیابی، اللہ رب العزت کے فضل واحسان اور اس کی عنایات اور تمام بھلائیوں کا سارا انحصار ہی اس پر ہے کہ انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کس حد تک رسولؐ اللہ کی سنت وسیرت کے مطابق ہے (تفہیم القرآن)۔
سورۃ الاحزاب کی مذکورہ بالا آیت ہر مسلمان پر اپنے زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو ہر حال میں رسولؐ کی سنتِ مطہرہ اور سیرتِ طیبہ کے تابع کرنا واجب کرتی ہے۔ یہ مقصد صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ ہر مسلمان قرآن وسنت کا وہ بنیادی علم جس کو اللہ الرحمٰن الرحیم الحکیم نے قرآن کریم کی پہلی وحی میں نازل ہونے والی پانچ آیات اور دیگر متعدد آیات کے علاوہ رحمۃ للعالمینؐ کی زبان مبارک سے ادا کروائے گئے الفاظ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجہ) ’’علم حاصل کرنے کی طلب و جدوجہد کرنا ہر مسلمان (مرد وعورت) پر فرض ہے‘‘ کے ذریعے بھی فرض فرمایا ہے، جس کو حاصل کرکے علیٰ وجہ البصیرت اپنے تمام فکری، عملی، ذاتی، خانگی، سماجی، معاشرتی، معاشی، اقتصادی، سیاسی، تنظیمی، تحریکی، ریاستی، عدالتی، قومی، بین الاقوامی، صلح وجنگ اور قومی سلامتی کے معاملات کو سنتِ مطہرہ اور سیرتِ طیبہؐ کے مطابق انجام دیا جاسکے، مثلاً اگر انسان کی ذاتی زندگی کے معاملات ہی کو لیا جائے تو ایک مسلمان کے لیے جن امور کا سنتِ مطہرہ کے مطابق علم سیکھنا فرض ہے ان میں سے چند یہ ہیں کہ: اس کا مزاج کیسا ہونا چاہیے؟ غصے کی حقیقت کیا ہے؟ غصے کو رفو کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ سچ کیسے بولنا ہے اور سچ پر عمل کیسے کرنا ہے؟ گفتگو کے آداب کیا ہیں؟ صحت کی حفاظت کیوں واجب ہے اور صحت کی حفاظت کے اصول کیا ہیں؟ کون سی ذاتی صفات مطلوب ومحمود ہیں اور کن صفات سے توبہ اور چھٹکارا فرض ہے؟ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس جدوجہد و جہاد میں آخری سانس تک لگا رہے، تا کہ حکم ربانی: ’’اور اپنے رب کی عبادت (زندگی کے ہر ہر معاملے میں اپنے خالق، رازق اور الٰہ کی مکمل اطاعت) کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت (یقین) آلے‘‘ (الحجر: 99) کی تعمیل ہوسکے۔















