صحابہؓ کو ایک طرف تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی سعادت میسر آئی۔ وہ قرآن کے اوّلین مخاطب بنے اور ان میں سے بعض کو اس دُنیا میں ہی جنّت کی بشارت دے دی گئی۔ دوسری طرف ایک اور اعزاز اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان کیا۔ کسی بندے کی اس سے بڑھ کر اور خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ فاطر ارض و سما اس سے راضی ہوجائے۔ قرآن میں اس رضا کا صاف اعلان ہے:
”اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے“ (المائدہ: 119)۔
”وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوتِ ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے“ (التوبہ: 1)۔
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے راضی ہوا، جب کہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے“ (الفتح: 18)۔
”اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ (حزب اللہ) ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے“ (المجادلہ: 22)۔
ظاہر ہے کہ ایک انسان کی زندگی کا حاصل اور ایک مسلمان کی کش مکشِ حیات کا آخری ہدف یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرلے۔ تخلیق انسان کا مقصد، عبادات کی غرض و غایت اور اسلام کا مُدعا یہی ہے اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام جس تعلیم کو لے کر آئے اس کا آخری سبق یہی ہے۔ اس اعتبار سے صحابہؓ کی زندگی مثال اور نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔
آنحضرتؐ نے جب مکہ میں اعلانِ نبوت فرمایا تو جیسے زمین و آسمان اجنبی بن گئے۔ آپ کا یہ اعلان اہلِ قریش کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ’صادق و امین‘ یکایک ان کے لیے ’خطرہ‘ بن جائے گا اور وہ ’شرم و حیا کا پُتلا‘ جس کی نگاہیں ہمیشہ نیچی رہتی تھیں، اس قدر ’بے باک‘ ہوجائے گا کہ اپنے آباواجداد کے مذہب تک کو چیلنج کر گزرے گا۔ اس اعلان کا صاف مطلب یہ تھا کہ نہ صرف اہلِ مکہ بلکہ پورے عرب معاشرے سے اعلانِ جنگ کیا جارہا ہے۔ سو وہ ہوا، پورا معاشرہ ایک اکیلی جان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہر طرف سے مخالفت کا طوفان اُمنڈ آیا۔ یہ بڑا سخت وقت تھا۔ ایسے حالات میں اس ’داعیِ حق‘ کی حمایت و نصرت کے لیے کسی شخص کا آواز بلند کرنا موت کے ہم معنی تھا۔ مگر زندہ ضمیر افراد ایک ایک کر کے اپنے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔ اس کے ہمدم، ہمراز، ہمراہی ، پشت پناہ، ساتھی اور مددگار بنے۔ انہوں نے ہر مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ہر آزمائش کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اہل مکہ کے ہر ظلم وستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انہیں ستایا گیا اور اہل مکہ کے ہر ظلم و ستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انہیں ستایا گیا، کوڑوں کی ضربیں لگائی گئیں، دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، زنجیریں باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا، تختۂ دار پر کھینچا گیا، مقتل کی سیر کرائی گئی، لوہے کے گرم گرم اوزاروں سے داغ لگائے گئے، بوجھل پتھروں کے نیچے دابے گئے، غرض وہ سب کچھ ہوا جس کا ظلم کے عنوان سے ایک انسان تصور کرسکتا ہے۔ یہ آزمائشیں ان لوگوں کی راہ کھوٹی نہ کرسکیں۔ ان ’صاحبانِ عزم و استقلال‘ نے کسی قیمت پر بھی داعیِ حق صلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت گوارا نہ کی۔ معیت و مصاحبت کو ترک نہ کیا۔ اور ایک مرتبہ جس رشتۂ رفاقت و اُلفت میں منسلک ہوگئے تھے، پھر اس پر کوئی حرف نہ آنے دیا۔ یہ حضرات آپؐ کے ایسے ساتھی اور رفقا تھے کہ دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں آپؐ سے جدا ہوتے ہوں۔ پھر ان صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محض ’تعلق‘ نہ تھا، ’عشق‘ تھا۔ یعنی ایک طرف تو مقصد کی ہم آہنگی، رفاقت اور تعاون کا تقاضا تھا کہ کسی لمحہ ساتھ نہ چھوڑا جائے اور دوسری طرف ’دل کے تقاضے‘ تھے کہ محبوبِ نظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس عشق کے آداب قرآن میں یوں سکھائے گئے ہیں:
”اے نبیؐ! کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ کی جدوجہد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے“ (التوبہ: 24)۔
صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اعزہ و اقارب، بلکہ دُنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ تھی۔ وہ اس بات کو گوارا کرنا تو بڑی بات ہے، اس کا تصور تک نہ کرسکتے تھے کہ حضورؐ کو کانٹا بھی چبھے اور وہ آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے رہیں۔ صحابہ کا یہ عشق ہمہ گیر تھا۔ آپؐ کی ذات و شخصیت سے بھی تھا اور آپؐ کے پیغام و دعوت سے بھی۔ وہ آپؐ پر ایمان لائے، آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور آپؐ کی خاطر تکلیفیں اُٹھائیں، ہجرت کی اور ہر مرحلے میں دوش بدوش چلے۔ ان کی یہ محنتیں رائیگاں نہ گئیں۔ اُس کا انہیں بدلہ بھی خوب ملا:
”جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی، اور مدد کی، وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطائوں سے درگزر ہے، اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے، وہ بھی تم میں شامل ہیں“ (الانفال: 74)۔
انہوں نے اسلام کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا اور یہ ساری متاعِ دُنیا دراصل ہے بھی بے مایہ، اُس معاوضہ کے مقابلہ میں جو انہیں حاصل ہوا:
”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنّت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے۔ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو“ (التوبہ: 111)۔
لیکن اسلام کے لیے اپنی ان عالی خدمات کی بنا پر انہیں مطلق یہ احساس نہ تھا کہ وہ بھی ’کچھ‘ ہیں۔ سب کچھ قربان کرنے کے باوجود غرورو تکبر اور بڑائی کا ’وسوسہ‘ تک صحابہؓ کے دل میں پیدا نہ ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب ’کارنامے‘ ہماری کوششوں کا حاصل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں وہ کسی مقصد کے لیے اپنی ذرا سی ’خدمت‘ پر پھول جاتے ہیں، اور بہت سارے حقوق و مراعات اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر ان جان نثاروں کا حال یہ نہ تھا۔ ہر لمحہ سہمے سہمے اور خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی کوتاہی کی وجہ سے یہ خدمات قبولِ بارگاہ نہ ہوسکیں۔ پھر آخرت میں اجر کے ایسے حریص تھے کہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہمیں اس دُنیا میں ہی ساری کوششوں کا صلہ نہ مل جائے کہ وہاں خالی ہاتھ رہیں۔ اسی بنا پر وہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور استغفار کیا کرتے تھے، تاکہ اس جدوجہد میں بربنائے بشریت جو لغزشیں ہوگئی ہوں، ان کی تلافی ہوجائے۔ وہ پکار اُٹھتے:
”مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچالے۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں۔ فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں“ (اٰل عمرٰن: 16-17)۔
اور حقیقت میں یہ ممکن بھی نہ تھا کہ جن نفوسِ قدسیہ کی تعلیم و تربیت آغوشِ نبوت میں ہوئی تھی، اس میں رذائلِ اخلاق کی کوئی آلائش باقی رہتی۔ کیونکہ جن بھٹیوں میں سے گزر کر وہ کندن بنے تھے، اس عمل میں غرور، تکبر، حسد اور دوسری بُرائیاں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔















