مکہ اتحاد: تجھے ہم ولی سمجھتے جونہ بادہ خوار ہوتا

Baba-Alif

دفاعی اتحاد کا مقصد صرف ایک مشترکہ دشمن یا جارح قوت سے بچنا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پس منظر میں گہری تزویراتی اور سفارتی بساط ہوتی ہے۔ جب کوئی ایک ملک یا قوت بہت زیادہ طاقتور ہوجاتی ہے تو اس کے پڑوسی یا حریف ممالک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس بڑی قوت کا تنہا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لیے وہ آپس میں اتحاد کرکے اپنی طاقت کو یکجا کرتے ہیں تاکہ ایسا توازن پیدا ہوجائے کہ وہ بڑی طاقت ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ ماضی میں اس کی کلاسیکی مثال ناٹو ہے جو سرد جنگ کے دوران سوویت یو نین کے خلاف بنایا گیا تھا۔ اتحاد کسی ملک کی صرف طاقت دیکھ کر نہیں بنائے جاتے بلکہ اس کے خطرناک اور جارحانہ عزائم دیکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ اگر ایک ملک بہت طاقتور ہے لیکن وہ جارح مزاج نہیں ہے تو دوسرے ملک اس کے خلاف اتحاد نہیں بناتے۔ لیکن اگر ایک طاقتور ملک جارحانہ رویہ رکھتا ہے تو پھر اس کی زد میں آنے والے ممالک اس کی قربت اور دھمکیوںکے پیش نظر باہم متحد ہونے کو ناگزیر خیال کرتے ہیں۔ جیسے امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کا اتحاد ’’آکس‘‘ (AUKUS) اور امریکا بھارت جاپان اور آسٹریلیا کا اتحاد ’’کواڈ‘‘ (QUAD)۔ یہ اتحاد خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ اور مبینہ جارحانہ عزائم کے خلاف قائم کیے گئے۔ اتحادوں کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ممالک باہمی طور پر سچے دوست ہیں بلکہ یہ ان کے مفادات اور خوف ہیں جو متحد ہوجاتے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں اگست 2026ء میں طے پانے والا ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ عالمی سیاست اور تزویراتی منظر نامے میں ایک انتہائی غیر معمولی پیش رفت ہے۔ اس اتحاد میں ایک طرف کھربوں ڈالرز کے فنڈز اور تیل کی معیشت کے ساتھ سعودی عرب ہے۔ دوسری طرف ناٹو کی دوسری بڑی فوج اور ڈرونز اور میزائل سسٹمز بنانے والی عالمی انڈسٹری ترکیہ ہے اور تیسری طرف مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور لڑائی کا وسیع، روایتی، تجربہ رکھنے والی بڑی فوج کی صورت پاکستان ہے۔ اس معاہدے کی بنیادی شق ناٹو کے آرٹیکل 5 کی طرح ہے، جس کے تحت ’’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘ دفاعی تجزیہ نگار، مبصرین اور عالمی مفکرین اس ’’مکہ اتحاد‘‘ کو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیکورٹی آرکیٹیکچر میں ایک بڑا تزویراتی زلزلہ قرار دے رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ زلزلہ کس کے خلاف ہے۔ وہ کون سے طاقتور جارح قوت ہے جس کے خوف سے یا جس سے مقابلے کے لیے تینوں ممالک دفاعی طور پر یکجا ہو گئے ہیں۔ 78 برس ہو چکے ہیں فلسطین اسرائیل کے قبضے میں ہے، ان تینوں ممالک نے اس معاملے پر باہم کوئی اتحاد تشکیل نہیں دیا۔ تقریباً اتنے ہی برس سے مقبوضہ کشمیر بھارت کے قبضے میں ہے، پا کستان نے ایسا کوئی اتحاد بنانا تو درکنار کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں۔ 2021 سے شام پر اسرائیل کی بمباری جاری ہے، شام کے علاقے اسرائیل کے قبضے میں ہیں، ترکیہ نے باقی دو برادر ممالک کے ساتھ مل کر ایسے کسی اتحاد کی سمت کوئی پیش رفت نہیں کی۔ دوسال سے جنوبی لبنان پر بمباری ہو رہی ہے اس پر برادر ممالک نے اتحاد نہیں بنایا۔ تین سال سے غزہ کو قبرستان بنانے کا عمل جاری ہے، اہل غزہ کی نسل کشی ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں حتیٰ کہ یورپ اور امریکا میں اہل غزہ کے لیے لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کرچکے ہیں، اس پر غیرت کھا کر تینوں مسلم ممالک نے کوئی اتحاد تشکیل نہیں دیا۔ افغانستان پر بیس سال تک امریکا بمباری کرتا رہا بیس لاکھ لوگ شہید کردیے کوئی مسلم اتحاد نہیں بنا! عراق پر امریکا نے قبضہ کر لیا اس پر کوئی اتحاد نہیں بنا، تو پھر یہ مکہ اتحاد کیوں بنایا گیا ہے؟ یہ اتحاد کس جارح قوت کے خلاف ہے؟ اب ایسا کیا ہو گیا ہے کہ یہ عظیم اتحاد تشکیل دیا گیا ہے؟ کیا یہ اتحاد امت مسلمہ کے درد وکرب سے بے حال ہو کر بنایا گیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی نظریاتی یا اسلامی جہادی بلاک نہیں ہے۔ مسلم امہ کی سطح پر یہ توقع رکھنا کہ یہ اتحاد مظلوم مسلمانوں کو بچانے کے لیے کسی تیسرے ملک پر جنگ مسلط کرے گا، ایک خام خیالی ہے۔ یہ اتحاد خالصتاً ریاستی مفادات، ملکی بقا اور دفاعی خود انحصاری پر مبنی ہے۔ یہ اتحاد جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد صرف معاہدے میں شامل تینوں ریاستوں (سعودی عرب، ترکیہ، اور پاکستان) کی جغرافیائی حدود کا تحفظ ہے، نہ کہ اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر فلسطین یا کشمیر یا شام یا لبنان یا غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا۔ تمام مسلم ممالک سمیت یہ تینوں اسلامی ممالک بھی امت مسلمہ کے بجائے نیشن اسٹیٹ (قومی ریاست) کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور اسی کے تحت اپنی پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی پہلی ترجیح اس کے اپنے معاشی منصوبے ’’ویژن 2030‘‘ اور ملکی سلامتی ہے۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ اگلی دہائیوں میں دنیا کا تیل پر انحصار کم ہو جائے گا اس کی بقا کا واحد راستہ معاشی بقا اور ٹورازم ہے۔ ترکیہ کے صدر طیب اردوان اسرائیل کے خلاف بہت سخت بیانات دیتے ہیں لیکن صرف بیانات کیو نکہ وہ ناٹو کے اور مغرب کے اتحادی ہیں۔ ان کی نصف سے زیادہ تجارت یورپی یونین کے ساتھ ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہونے اور عظیم بہادر افواج رکھنے کے باوجود امت مسلمہ کے مسائل پر صرف سفارتی سطح پر سرگرمی پوز

کرسکتا ہے۔ اس کی معیشت قرضوں اور آئی ایم ایف کے پروگراموں پر چل رہی ہے جس پر امریکا اور مغربی طاقتوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر وہ شدید دبائو میں ہے۔ مختصر یہ کہ جب تک ان تینوں ممالک کی اپنی سلامتی کو براہ راست کو ئی خطرہ نہ ہو یہ امت مسلمہ کے حوالے سے کسی تنازع میں نہیں کود سکتے ہیں۔

طویل عرصے سے واشنگٹن کو یہ مشورے دیے جارہے ہیں کہ وہ دنیا کا تھانیدار بننے کا اپنا رویہ ترک کردے اور اپنے اتحادیوں کو اس قابل بنائے کہ وہ خود اپنی حفاظت کرسکیں تاکہ امریکا پر سے بوجھ کم ہوسکے۔ امریکا کا اب پورا فوکس مشرقِ وسطیٰ کے صحراؤں کے بجائے ایشیا پیسیفک (بحر الکاہل) میں چین کا راستہ روکنے پر ہے۔ امریکا مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں براہِ راست اپنی فوجیں پھنسانے کے بجائے اپنے پرانے اور قابل ِ اعتماد اتحادیوں (سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان) کو ایک مشترکہ فریم ورک میں لا رہا ہے تاکہ وہ خطے کے سیکورٹی چیلنجز جیسے دہشت گردی یا ایرانی اثر ورسوخ کو خود سنبھالیں اور امریکا پر مالی و عسکری بوجھ کم ہو سکے۔ امریکا کے لیے یہ بہت آسان اور محفوظ ہے کہ وہ خطے کی سیکورٹی کی ڈیوٹی ایسے بلاک کے حوالے کرے جس کے تینوں ستون پہلے ہی امریکی ہتھیاروں، مالیاتی نظام (آئی ایم ایف؍ سعودی فنڈز) اور اسٹرٹیجک پالیسیوں کے مرہونِ منت ہوں۔

یہ ہے مکہ معاہدے کی زمینی حقیقت! جو سادہ لوح خوش فہمی میں اس معاہدے سے امت مسلمہ کی خیر کے رومانوی تاثر میں گھر گئے تھے خاطر جمع رکھیں یہ کوئی نظریاتی بلاک نہیں امریکا کی آشیر باد سے خطے کی چوکیداری کا ایک تزویراتی سودا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بزبان غالب ہم ان تینوں برادر اسلامی ممالک کو ولی سمجھتے لیکن کیا کیجیے؟ یہ پرانے امریکی بادہ خوار ہیں۔

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

مزید خبریں

Scroll to Top