قیادت کا عالمگیر بحران، اسباب کیا ہیں؟

shahnawaz farooqi for web

قیادت کا بحران صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا ہی قیادت کے بحران میں مبتلا ہے۔ اقبال نے مثالی رہنما کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا تھا۔

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

لیکن قیادت کے بحران نے اس شعر کو یوں کردیا ہے۔

نگہ پست، سخن دلخراش، جاں پرشور
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

ایک وقت تھا کہ قیادت کے دائرے میں دیوقامت لوگ ’’واک‘‘ کرتے تھے۔ دیو قامت لوگ رخصت ہوئے تو ان کی جگہ ’’بونوں‘‘ نے لے لی۔ بونے بھی غنیمت تھے مگر بونے بھی زیادہ دیر تک قیادت کے مناصب پر فائز نہ رہ سکے۔ وہ رخصت ہوئے تو ان کی جگہ ’’بالشتیے‘‘ آگئے۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ کبھی قیادت ڈائنا سوروں کے پاس تھی۔ وہ گئے تو ان کی جگہ ہاتھی آگئے۔ ہاتھی بھی غنیمت تھے مگر وہ بھی زیادہ دنوں تک قیادت کے مناصب پر فائز نہ رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی جگہ چوہوں یہاں تک کہ حشرات الارض نے لے لی۔

یہ باتیں ’’قیاسات‘‘ نہیں ہیں۔ یہ ناقابل ِ تردید حقائق ہیں۔ روس میں انقلاب آیا تو لینن اس کی قیادت کررہا تھا۔ لینن ایک دیو قامت شخص تھا۔ اس سے پہلے سوشلزم محض ایک فلسفہ تھا مگر لینن نے اسے ایک عالمگیر تحریک میں ڈھال دیا۔ انقلاب سے پہلے روس ایک معمولی ملک تھا مگر لینن کے انقلاب نے اسے دنیا کی دو سپر پاورز میں سے ایک سپر پاور بنادیا۔ انقلاب سے پہلے روس طبقاتی معاشرہ تھا مگر انقلاب نے طبقات کا خاتمہ کرکے مساوات کو معاشرے کی بنیادی حقیقت بنادیا۔ ہم نے سلیم احمد کے ذاتی کتب خانے میں لینن کی تقاریر اور مضامین کے مجموعے دیکھے ہیں۔ ان مجموعوں کی تعداد 30 سے زیادہ تھی۔ دنیا کا کون سا موضوع تھا جس پر لینن نے علم کے دریا نہیں بہائے تھے۔ لینن نے فلسفے پر گفتگو کی ہوئی تھی، ادب پر کلام کیا ہوا تھا، وہ سیاست کو زیر بحث لایا ہوا تھا، اس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت بیان کی ہوئی تھی، اس نے کلچر کی اہمیت پر خامہ فرسائی کی ہوئی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ لینن صرف ایک سیاسی رہنما صرف ایک انقلابی نہیں تھا وہ ایک اعلیٰ درجے کا دانش ور بھی تھا۔ مگر جب قیادت کا زوال ہوا تو روس کی باگ ڈور گوربا چوف کے ہاتھ میں آگئی۔ وہ روس اور اس کے انقلاب کو سنبھال ہی نہ سکا۔ آج کا روس پیوٹن کے ہاتھ میں ہے۔ پیوٹن کی کُل اہلیت یہ ہے کہ وہ روس کی خفیہ ایجنسی کے جے بی کا ایک ایجنٹ تھا اور حالات نے اسے روس کی صدارت تک پہنچادیا۔ بلاشبہ پیوٹن روس کو سنبھالے ہوئے ہے مگر پیوٹن کا علم و فکر اور دانش وری سے کوئی تعلق نہیں۔ کبھی اس کے بارے میں یہ نہیں سنا کہ وہ مطالعے کا بھی عادی ہے۔

مائو زے تنگ سے پہلے چینی قوم افیون کھانے والی قوم کے طور پر بدنام تھی۔ چین کا ایک شاندار ماضی تو تھا مگر اس کا نہ کوئی حال تھا نہ مستقبل۔ چین کی آبادی 50 کروڑ سے زیادہ تھی اور اس کا رقبہ 95 لاکھ مربع کلو میٹر تھا مگر دنیا کے نقشے پر چین کا کوئی وزن نہیں تھا۔ مگر پھر مائو منظر عام پر طلوع ہوا۔ اس نے اپنی انقلابی فکر سے چین کے تن مردہ میں جان ڈالی اور افیون کھانے والی قوم کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انقلابی قوم میں ڈھال دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا حامل ہوگیا۔ اس نے 1962ء کی چین بھارت جنگ میں بھارت کے دانت کھٹے کردیے۔ مائو نے چین کو دیکھتے ہی دیکھتے ایٹمی طاقت بنادیا۔ مائو بھی ایک بڑا دانش ور تھا۔ اس کی Red Book انقلابیوں کی بائبل تھی۔ آج چین جو کچھ ہے اسی انقلاب کا تسلسل ہے۔ چین کی موجودہ قیادت کا حال دوسرے ملکوں کی قیادت سے بہت بہتر ہے مگر وہ مائو کی فکر و دانش کا سایہ بھی نہیں ہے۔

ہندوستان کے رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کو ان کی قوم ’’مہاتما‘‘ کہتی تھی۔ مہاتما کا ہندی لفظ ’’مہا‘‘ اور ’’آتما‘‘ کا مجموعہ ہے۔ ہندی میں مہا کا مطلب ہے ’’عظیم‘‘ اور آتما کا مطلب ہے ’’روح‘‘۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندو گاندھی کو ’’عظیم روح‘‘ کہا کرتے تھے۔ ہندو سماج کی حالت پست تھی چنانچہ گاندھی اس سماج میں واقعتا ایک عظیم روح سمجھے جاسکتے تھے۔ گاندھی ایک سادہ زندگی گزارتے تھے اور ان کا عدم تشدد کے فلسفے اور سیاست نے آئن اسٹائن جیسے عبقری کو بھی متاثر کیا ہے۔ چنانچہ آئن اسٹائن نے گاندھی کے انتقال کے بعد ان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والی نسلیں اس بات پر حیران ہوں گی کہ ایک گوشت پوست کے مثالی انسان نے اس روئے زمین پر زندگی بسر کی ہے۔ ہندوستان پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی ایک دیو قامت رہنما تھے۔ ان کی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ پڑھ کر خیال آتا ہے کہ وہ وسیع المطالعہ شخص تھے۔ وہ اردو اور اردو شاعری کے عاشق تھے۔ اردو کے ممتاز شاعر جوش ملیح آبادی ان کے گھر کے آدمی تھے۔ یہاں تک کہ جوش نہرو اور ان کی بیٹی اندرا گاندھی کو ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے۔ اندرا گاندھی سے ایک بار انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ میں اور آپ کے والد میں کیا فرق ہے تو اندرا گاندھی نے کہا میرے والد ایک خواب دیکھنے والے شخص تھے جبکہ میں ایک حقیقت پسند ہوں۔ یہ نہرو تھے جنہوں نے اردو کو بھارتی آئین میں قومی زبان کے طور پر شامل کرایا۔ یہ نہرو تھے جو مسئلہ کشمیر کو لے کر اقوام متحدہ میں گئے۔ یہ نہرو تھے جنہوں نے ہندوستان اور پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے لیاقت نہرو معاہدے پر دستخط کیے۔ لیکن بھارت کی باگ ڈور آج کل نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے۔ نہرو دیوقامت تھے تو نریندر مودی ایک بالشتیہ ہے۔ اسے مسلمانوں سے ایسی نفرت ہے کہ اس سے پوچھا گیا کہ آپ کو مسلمانوں کے مرنے پر افسوس تو ہوتا ہوگا۔ یہ سن کر مودی نے کہا آپ کی گاڑی کے نیچے اگر کتے کا پلا آجائے تو آپ کو افسوس تو ہوگا۔

ایک وقت تھا کہ پاکستان قائداعظم کے ہاتھ میں تھا۔ قائداعظم ایک دیوقامت شخص تھے۔ مگر آج کا پاکستان شریفوں، زرداریوں اور بھٹووئوں کے قبضے میں ہے جو بالشتیوں کے سوا کچھ نہیں۔ شریف خاندان کی نفسیات پر پنجابیت اور بھٹو خاندان کی نفسیات پر سندھیت چھائی ہوئی ہے۔ میاں نواز شریف جب اسلامی جمہوری اتحاد کے پرچم کے سائے میں سیاست کررہے تھے تب انہوں نے پنجاب میں جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے اپنی کتاب ’’دی اسپائی کرونیکلز‘‘ میں لکھا ہے کہ میاں شہباز شریف جب پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو وہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ راجا امریندر سنگھ کے ساتھ بھارتی اور پاکستانی پنجابوں کو ایک کرنے کے امکانات پر بات چیت کررہے تھے۔ مریم نواز خود کو اسلام یا پاکستان کی بیٹی نہیں ’’پنجاب کی بیٹی‘‘ کہہ کر خوش ہوتی ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے پی کے اور بلوچستان میں ایک ’’وفاقی پارٹی‘‘ ہے مگر سندھ میں وہ صرف ایک ’’سندھی پارٹی‘‘ ہے جس نے مہاجروں کا گلا گھونٹا ہوا ہے، یہاں سوال یہ ہے کہ قیادت کے عالمگیر بحران کے اسباب کیا ہیں؟

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ نظریہ ہے جو افراد کو بڑا بناتا ہے۔ مذاہب عالم بالخصوص اسلام نے ایک نظریے کی حیثیت سے ہزاروں عظیم لوگ اور دیوقامت شخصیات پیدا کیں، حد تو یہ ہے کہ سوشلزم نے مذہب دشمن نظریہ ہونے کے باوجود دیوقامت لوگوں کو جنم دیا۔ مگر اب نہ اسلام کسی کا نظریہ حیات ہے، نہ کوئی اور فلسفہ۔ امریکا دنیا کی تین بڑی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت ہے۔ مگر اس کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا انسان ہے جس کے مزاج کی پستی کا یہ عالم ہے کہ اس نے اپنی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ اگر وہ میری بیٹی نہ ہوتی تو میں اسے ڈیٹ کرتا۔

بدقسمتی سے اب انسانوں کے پاس بڑے مقاصد حیات بھی نہیں ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مقاصد حیات بھی انسان کو بڑا بنادیتے ہیں۔ اقبال جب تک ایک قوم پرست شاعر تھے وہ ایک اوسط درجے کے شاعر تھے مگر جب انہیں اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی عزیز ہوگئی تو وہ عظیم شاعر بن کر ابھرے۔

یہی معاملہ قائداعظم کا ہے۔ جب تک وہ ایک قومی نظریے کے قائل تھے وہ ایک دوسرے درجے کے سیاست دان تھے مگر جب وہ دو قومی نظریے کے علمبردار بنے تو قائداعظم کہلائے۔

یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ علم بھی انسان کی قلب ماہیت کرکے اسے بڑا بناتا ہے۔ مگر اب سیاست دان کیا اساتذہ اور صحافی تک مطالعے کے عادی نہیں رہے۔ چنانچہ سیاست، تعلیم اور صحافت ہر جگہ بالشتیوں کا راج ہے۔

بدقسمتی سے پوری دنیا کی سیاست تعصبات کی نذر ہوگئی ہے اور تعصبات کبھی انسان کو بڑا نہیں بننے دیتے۔ خواہ تعصبات قومی ہوں علاقائی، فرقہ وارانہ ہوں یا لسانی۔

مزید خبریں

Scroll to Top