جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا!

Idaria

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے الفاظ میں ’’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیاء ہوتی ہے‘‘۔ مگر خواجہ صاحب کی اپنی حکومت بے شرمی اور بے حیائی کی تمام حدیں عبور کرتی دکھائی دیتی ہے جس نے بے پناہ ڈھٹائی، شدید بے حسی اور انتہائی سفاکانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی عوام دشمن روش پر عمل پیرا رہتے ہوئے بدھ کی شب ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور اگلے چوبیس گھنٹے کے لیے پٹرول 3.40 روپے اور ڈیزل 6.72 روپے فی لٹر مہنگا کر دیا ہے جس کے بعد پٹرول کی قیمت جمعرات کے لیے 367.75 پیسے اور ڈیزل کی 392.67 روپے فی لٹر مقرر کی گئی رواں ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیسری بار اضافہ کیا گیا ہے اور ان تین دنوں میں پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 23.88 روپے اور ڈیزل کی قیمت 14,62 روپے فی لٹر بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ پیر کو بیک جنبش قلم پٹرول کی قیمت بارہ روپے نوے پیسے اور ڈیزل کی تین روپے 72 پیسے فی لٹر بڑھائی گئی، منگل کو دوسرے روز بھی پٹرول 5.58 روپے اور ڈیزل 4.18 روپے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا۔ بدھ کو مسلسل تیسرے روز پھر قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کر دیا گیا۔ ہے اور ابھی آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ یہیں پر بس نہیں مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی 52 پیسے بڑھا دی گئی ہے جو ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے بلوں میں عوام سے وصول کی جائے گی اس مد میں صارفین پر بارہ ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات زندگی مہنگی کر کے وقتی طور پر اپنے خزانے کی آمدن میں اضافہ تو کر لیتی ہے مگر اسے احساس نہیں ہوتا کہ اس اقدام کے نتیجے میں عوام کی مشکلات میں کس قدر اضافہ ہو جاتا ہے اور ملک کی صنعت، زراعت، تجارت اور کاروبار پر کس قدر دور راس منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو پہلے ہی نہایت نازک صورت حال سے دو چار ہیں، بند ہوتی صنعتوں، گراوٹ کی شکار تجارت اور تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی زراعت پر ان حکومتی اقدامات کے باعث جو تباہی و بربادی مسلط ہوتی ہے اس کا فوری اثر غربت اور مہنگائی کے مارے عام آدمی پر پڑتا ہے جو پہلے ہی بے روز گاری کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشیوں پر مجبور ہو چکا ہے، مگر حکومتی اقدامات اس بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کو دو چند کر دیتے ہیں۔ اسی طرح صنعتوں کی بندش اور خسارے سے دو چار زراعت کے سبب حکومتی ٹیکسوں کی آمدن میں کمی اور درآمدی بل میں زبردست اضافہ ہونا بھی فطری امر ہے اس طرح حکومت پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس وغیرہ کو مہنگا کر کے بظاہر جو اضافی آمدن حاصل کرتی ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان اسے دوسری مدات سے حاصل ہونے والے محصولات میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومت عام طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا جواز، ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جارحیت اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کو بتاتی ہے مگر حقائق اس کی تائید نہیں کرتے اور اعداد وشمار شاہد ہیں کہ یہ ’عذر لنگ‘ کے سوا کچھ نہیں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک عالمی منڈی میں آج کل تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں اور سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں مگر آج بھی پاکستان میں ایک لٹر پٹرول اپنی اصل قیمت سے 133 روپے دو پیسے اور ڈیزل ایک سو بائیس روپے پچپن پیسے زائد قیمت پر صارفین کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لٹر پٹرول کی لاگت 234 روپے 73 پیسے بنتی ہے جب کہ عوام کو یہ 367 روپے 75 پیسے میں سرکاری طور پر فروخت کیا جا رہا ہے حکومت ایک لٹر پٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، پانچ روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور اکیس روپے پندرہ پیسے کسٹمز ڈیوٹی وصول کرتی ہے جب کہ اسی ایک لٹر پٹرول پر ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کی مد میں سات روپے 60 پیسے، آئل کمپنیوں کا مارجن سات روپے 87 پیسے اور ڈیلر مارجن نو روپے 98 پیسے عائد ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی گرانی کا تعلق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی سے زیادہ حکومت کے عائد کردہ محصولات سے ہے، حکومت نے مالی سال 2025ء کے دوران 1220 ارب اور مالی سال 2026ء میں 1567 ارب روپے صرف لیوی کے نام پر صارفین کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر حاصل کیے موجودہ مالی سال کے لیے جس کا ہدف مزید بڑھا کر 1676 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ حکومت کی لوٹ مار اور جھوٹ فریب کا پردہ چاق کرنے کے لیے یہ دلچسپ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ حکومت ہمیشہ تیل کی درآمدی قیمتوں میں اضافہ کو اندرون ملک قیمتیں بڑھانے کے لیے بہانے کے طور پر پیش کرتی ہے مگر حکومت کے درآمدی بل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جولائی 2026ء میں پاکستان نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کا ایک لٹر بھی درآمد نہیں کیا مگر اس ایک ماہ کے دوران حکومت نے ڈیزل کی قیمت 311 روپے سے بڑھا کر 393 روپے فی لٹر کر دی۔ سوال یہ ہے کہ جب ڈیزل سرے سے بیرون ملک سے درآمد ہی نہیں کیا گیا تو اس کی قیمت میں 82 روپے فی لٹر کا اضافہ کیوں؟ کیا اسے حکومتی سطح پر عوام سے سراسر دھوکا، فراڈ اور لوٹ مار کے سوا کوئی دوسرا نام دیا جا سکتا ہے…؟ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔ اب آئیے ذرا اس سارے معاملہ کا ایک اور پہلو سے جائزہ لیتے ہیں، ایران کے خلاف جس جارحیت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو زمین سے آسمان تک پہنچانے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے، زمینی حقائق اور خود حکومتی ذرائع اور دعوے یہ بتاتے ہیں کہ اس جنگ سے سب سے کم متاثر پاکستان ہوا ہے اس کے تیل اور مال بردار جہازوں کو ایران نے کسی مرحلے پر روکا ہے نہ امریکا نے کسی قسم کا نقصان پہنچایا ہے جب کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو سمندری سفر کے دوران خاصی رکاوٹیں درپیش رہی ہیں مگر پاکستان کے مقابلے میں ان ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ پاکستان سے قطعی برعکس ہے۔ خطے کے ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے پہلے ہی کم ہیں۔ بھارت میں پٹرول کی قیمت تین سو روپے جبکہ بنگلا دیش میں 316 روپے فی لٹر ہے۔ یہی ایک لٹر پٹرول پاکستان میں 367 روپے 75 پیسے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد یکم مارچ سے اب تک ان دونوں ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں برائے نام اضافہ کیا گیا ہے۔ بھارت میں اس عرصے میں پٹرول صرف آٹھ روپے اور بنگلا دیش میں 24 ٹکے فی لٹر مہنگا کیا گیا ہے جب کہ پاکستان میں اضافے کا ان ممالک سے کوئی موازنہ ممکن نہیں کیونکہ ہمارے حکمران تو تیل کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافے کے ذریعے عوام کی کھال کھینچنے میں مصروف ہیں اور اب تک سوا سو روپے کے قریب اضافہ کر چکے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر دیگر علاقائی ممالک ہم سے بدتر حالات کا سامنا کرنے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان کے مقابلے میں برائے نام اضافہ کر رہے ہیں تو آخر پاکستانی حکمران اس قدر سفاکانہ طرز عمل کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں؟ حکومت کے اس ظلم کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور قائدین صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر اہم شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ کم و بیش ایک ماہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالات کا تقاضا اور وقت کی ضرورت ہے کہ عوام بھی بڑی تعداد میں اس احتجاج کا حصہ بنیں تاکہ حکمرانوں کو اس ظلم سے روکا جا سکے۔ رسول اکرمؐ کا ارشاد اس حوالے سے بہت واضح ہے کہ بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ معروف شاعر مرحوم قتیل شفائی کی رائے اس ضمن میں خاصی شدید ہے، جن کا کہنا ہے کہ:

قتیل، دنیا میں اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

مزید خبریں

Scroll to Top