کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے ان کے اہلخانہ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی دے دی۔ کراچی پریس کلب میں مغوی پاکستانیوں کے اہل خانہ اور وکلا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کو اغوا ہوئے 140 دن سے زائد گزر چکے ہیں لیکن ان کے پیاروں کی واپسی کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ایک مغوی کے بیٹے نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ سے والد کی آواز تک نہیں سنی، گھر کا ہر فرد انہیں دیکھنے کے لیے ترس گیا ہے۔ مغوی انجینئر کے بھانجے سید طالب عباس نے کہا کہ کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر آنے کا شوق نہیں، انہیں حالات نے احتجاج پر مجبور کیا ہے۔ وزارت خارجہ کو چار ماہ قبل درخواست دی گئی، فالو اپ لیٹر بھی لکھا گیا لیکن بروقت کوئی جواب نہیں ملا جس کے باعث متاثرہ خاندان احتجاج پر مجبور ہوئے تھے۔ مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ نے کہا کہ فارن آفس کے باہر احتجاج کے دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ متاثرہ اہل خانہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ میں قزاقوں کے ساتھ سفارتی مذاکرات تیز کیے جائیں اور مغوی پاکستانیوں کی فوری اور بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ہمیں واضح یقین دہانی کرائی جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کیا جائے گا۔ متاثرہ خاندانوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بھی اپیل کی کہ وہ معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔ اہلخانہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ اقوام متحدہ، عالمی بحری تنظیم اور دیگر ممالک صومالیہ میں قید سی فیرز کی رہائی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں کیوں کہ یہ معاملہ کچھ ہزار ڈالرز میں حل کیا جاسکتا ہے
صومالی قزاقوں کے ہاتھوںاغوا ہونے والے پاکستانی خاندان اپنے پیاروںکی رہائی کے لیے پریس کلب میںپریس کانفرنس کررہے ہیں















