کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے ترجمان اسلم غوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اقدامات سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اپنے بیان میں اسلم غوری نے کہا کہ ایک جانب حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے عوام پر معاشی بوجھ ڈال رہی ہے اور دوسری جانب بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی جارہی ہے جو حکومتی ترجیحات اور عوامی مشکلات کے درمیان واضح تضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران آئے روز عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈال کر اپنی شاہ خرچیوں کو پورا کررہے ہیں جبکہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حکمرانوں کی مراعات اور اخراجات جاری ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ جے یو آئی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل درآمد کررہی ہے جس کا بوجھ براہ راست عام شہری کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ناصرف سفری اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔اسلم غوری نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے احتجاج اور دھرنوں کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی ہٹ دھرمی کا مظہر ہے۔ مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کو شدید پریشانی سے دوچار کردیا ہے، مگر حکمرانوں کو عوام کی مشکلات کا احساس نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینا چاہیے، حکومتی اخراجات اور شاہانہ مراعات میں کمی لائی جائے اور عام شہری پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے بجائے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔جے یو آئی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کی معاشی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف مل سکے۔















