کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے پاکستان کی سرکاری و نجی میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کی بے دخلی کے احکامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انسانی اور تعلیمی بنیادوں پر فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ پیما کے قائم مقام مرکزی صدر پروفیسر محمد طیب نے کہا ہے کہ ایسے افغان طلبہ جن کی میڈیکل تعلیم اور تربیت جاری ہے اور جن کے تعلیمی و قانونی کوائف مکمل ہیں، انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زیرِ تعلیم طلبہ کی تعلیم اچانک روکنے سے ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پہلے ہی ڈاکٹروں اور طبی عملے کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے، پاکستان کے طبی اداروں سے تعلیم اور تربیت مکمل کرنے والے افغان طلبہ مستقبل میں اپنے ملک واپس جاکر وہاں کے عوام کی طبی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پروفیسر محمد طیب نے زور دیا کہ سیاسی تنازعات اور موجودہ حالات کو صحت، علاج، تعلیم اور طلبہ کے مستقبل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ طلبہ کو اپنی پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کرنے اور مستقبل سنوارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پیما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی، تعلیمی تسلسل اور خطے کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان میڈیکل طلبہ کی بے دخلی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور پاکستان میں زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔















