مفتاح اسماعیل بھی کراچی دھرنے میں پہنچ گئے

کراچی (صباح نیوز) پاکستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے 26ویں روز شرکائے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے کے شرکاء کا شکر گزار ہوں جو 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ہم نے کراچی کی میئر شپ کے لیے ووٹ قابض میئر کے لیے نہیں بلکہ حافظ نعیم الرحمن کو دیا تھا۔ حافظ نعیم الرحمن معقول مطالبہ کررہے ہیں جس کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت فی لیٹر پیٹرول میں 85 روپے لیوی اور بقیہ ٹیکسز لگا کر 106.68 روپے اضافی وصول کررہی ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد موٹر سائیکل چلانے والے ہی پیٹرول ڈلواتے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے اجازت نہیں ہے، یہ وہی عالمی مالیاتی ادارہ ہے جس نے 11 ارب روپے کا جہاز اور اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی اجازت دے دی۔انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ نوکری پیشہ افراد پر ٹیکس کم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، چینی مافیا کے خاندان کو ہر ماہ 25 ارب روپے کمانے کے لیے بھی عالمی مالیاتی ادارے نے منع نہیں کیا۔ عوام سبسڈی نہیں مانگ رہے بلکہ ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ملک میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مہنگائی کے باعث سود کی شرح میں اضافہ کرے گا۔ 85 ہزار ارب روپے قوم پر قرض ہے، اگر اس میں ایک روپے سود بڑھا تو 5 فیصد شرح سود میں اضافہ ہوگا۔ حکومت مہنگائی کے باعث اسٹیٹ بینک کو شرح سود میں اضافی رقم دینے پر تو منظور ہے لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2 سال پہلے وعدہ کیا تھا کہ ہم گندم خریدیں گے لیکن انہوں نے وعدہ خلافی کی اور کسانوں کو بے روزگار کردیا۔ آج کے دن کراچی میں آٹا 180 روپے فی کلو ہے اور کسان کو 70 روپے فی کلو ملتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے دھرنا 25 کروڑ عوام کی آواز ہے، جماعت اسلامی کی محنت سے آئی پی پیز سے فائدہ ہوا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جماعت اسلامی بوری بند کی سیاست تو نہیں کرتی لیکن عوامی مفاد میں سیاست ضرور کرتی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے سے 30 فیصد ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں، موٹر سائیکل سوار کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ حکومت سے استدعا ہے کہ عوام کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھایا جائے اور ظالمانہ بھتہ لیوی ٹیکس ختم کیا جائے۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ لیوی ٹیکس ختم کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا، لیوی ٹیکس لگانے سے غربت بڑھے گی اور شرح سود میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں 21 فیصد کی سطح پر بے روزگاری ہے۔ نظام کی تبدیلی بھی ضروری ہے اور جن لوگوں کو مسلط کیا گیا ہے انہیں بھی ہٹانا ہوگا۔

کراچی : سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے میں شریک ہیں

مزید خبریں

Scroll to Top