کراچی (اسٹاف رپورٹر)پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس پر دھرنا اتوار کو25 ویں دن بھی جاری رہا،دھرنا گاہ میں جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن چیئرمینز کے ہمراہ کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیا ۔ کچہری میں تاؤنز چیئرمینوں نے تین سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی اور دھرنے میں موجود بڑی اسکرین کے ذریعے اپنے اپنے ٹاونز میں کروائے گئے کام کے حوالے سے پریزینٹیشن بھی دکھائی گئی ۔ دھرنے میں شریک شرکاء نے ٹاؤنز چیئرمینوں سے سوالات بھی کیے ۔کھلی کچہری سے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد صرف انتخابات جیتنا یا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ایک بہتر نظام قائم کرنا ہے۔ بلدیاتی اداروں میں جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے اپنے محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود یہ عملی مثال قائم کی ہے کہ اگر عوامی نمائندے اپنے علاقے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کر کام کریں تو تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کو ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں، انہیں مکمل اختیارات دیے جائیں اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تو کراچی کے مسائل بڑی حد تک حل کیے جاسکتے ہیں۔ کراچی کے عوام کو خیرات نہیں، اپنا حق چاہیے؛ بلدیاتی نمائندوں کو وسائل اور اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرسکیں۔آج کی یہ کھلی کچہری بھی اسی مقصد کا حصہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کی کارکردگی براہِ راست عوام کے سامنے رکھی جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شہری خود دیکھیں کہ جن نمائندوں کو وسائل نہیں دیے گئے، انہوں نے دستیاب وسائل میں کیا کچھ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کی یہ کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر وسائل کا درست استعمال ہو، ترجیحات طے ہوں اور کرپشن کے بجائے خدمت کو ترجیح دی جائے تو کراچی کے بلدیاتی ادارے شہریوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔منعم ظفر خان نے کہاکہ ٹاؤن چیئرمینز کی ذمہ داری ایک ’’تھینک لیس جاب‘‘ ہے، وہ دن رات عوامی خدمت میں مصروف رہتے ہیں لیکن ان کی محنت اور کارکردگی کو اجاگر کرنے کے بجائے عموماً صرف ان کاموں کا ذکر کیا جاتا ہے جو وسائل کی کمی یا دیگر رکاوٹوں کے باعث مکمل نہیں ہوسکے۔ تمام تر کمی و کوتاہی، محدود وسائل اور ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود جماعت اسلامی کراچی کے ٹاؤن چیئرمینز اور پوری ٹیم نے گزشتہ تین سال کے دوران تاریخی اور مثالی کام کیے ہیں۔کراچی کے شہریوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز نے کن حالات میں کام کیا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے ٹاؤنز کو ترقیاتی کاموں کے لیے ایک پیسہ بھی ترقیاتی فنڈز کی مد میں نہیں دیا گیا، اس کے باوجود جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے بلکہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے مختلف کاموں کے عوض ٹاؤنز کو جو رقم حاصل ہوئی، اسے بھی عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا گیا اور اس رقم سے کئی اہم کام مکمل کیے گئے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز کے پاس وسائل محدود ہیں لیکن ان کے پاس خدمت کا جذبہ، منصوبہ بندی اور کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ٹاؤنز میں ایسے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جو شہریوں کے لیے براہِ راست سہولت کا باعث بن رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت اور منتخب نمائندوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کا نہیں بلکہ نیت، دیانت داری، ترجیحات اور وسائل کے درست استعمال کا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان، ذمہ داران اور شہریوں کو چاہیے کہ ٹاؤنز کی ان کاوشوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ آج سوشل میڈیا ایک مؤثر ذریعہ ہے، ہم میں سے ہر فرد جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کی کارکردگی کو عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ٹاؤن چیئرمینز نے جو کام کیے ہیں، ان کی تصاویر، ویڈیوز اور تفصیلات سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جائیں تاکہ کراچی کے شہریوں کو معلوم ہو کہ محدود وسائل میں بھی ان کے منتخب نمائندے کیا کچھ کررہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں 234 پارکس اور 74 اسکولوں کو ازسرِنو بحال کیا گیا ہے۔ یہ صرف عمارتوں کی مرمت یا رنگ و روغن کا معاملہ نہیں بلکہ ان اداروں اور عوامی مقامات کو دوبارہ فعال اور قابلِ استعمال بنانے کی کوشش ہے۔ پارکس کی بحالی سے شہریوں، خصوصاً بچوں اور خاندانوں کو بہتر ماحول فراہم ہوا ہے، جبکہ اسکولوں کی بہتری سے سرکاری تعلیمی اداروں پر شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں صرف عمارتوں کو بہتر بنانا کافی نہیں، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت اساتذہ کرام کی تربیت کے لیے مختلف ورکشاپس اور ٹریننگ پروگرامز منعقد کیے گئے اور انہیں تدریس کے حوالے سے نت نئے آئیڈیاز اور جدید طریقہ? کار فراہم کیے گئے، تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور معیاری تعلیم دی جاسکے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا ہے۔پرائمری ہیلتھ کیئر پہلے تقریباً صفر تھی اور بنیادی مراکز صحت عملاً فعال نہیں تھے،لیکن جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے اس شعبے پر توجہ دی اور صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران تقریباً 10 ہزار مریضوں نے ان طبی سہولیات سے استفادہ کیا ہے۔گلبرگ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کلینک قائم کیا گیا ہے، جہاں شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور صبح سے شام تک پرائمری ہیلتھ کیئر کی خدمات جاری رہتی ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ عام آدمی کو اپنے بنیادی علاج کے لیے دور دراز علاقوں میں جانے کی ضرورت نہ پڑے اور اسے اپنے علاقے میں ہی بنیادی طبی سہولیات میسر ہوں۔نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے ٹاؤن چیئرمینز کے ہمراہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں ایک فضا بنی اور بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کراچی کی نمبر ون پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ پاکستان میں عجیب چمتکار ہوتے ہیں کہ جیتنے والوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا، ایسے چمتکار صرف پاکستان میں ہی ہوسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے باوجود بہت سارے ٹاؤنز ہمارے ہاتھ سے چھین لیے گئے، جن میں سے ہم صرف 9 ٹاؤنز ہی بچا سکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا بجٹ ہزاروں ارب روپے پر مشتمل ہے، جبکہ ایک ٹاؤن کے پاس محض 3 یا 4 کروڑ روپے کے وسائل ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کا ہر ٹاؤن چیئرمین نت نئے آئیڈیاز اور اپنی دستیاب صلاحیتوں و وسائل کو بروئے کار لاکر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور محدود وسائل میں بھی قابلِ ذکر کام کررہا ہے۔اس کے برعکس باقی ٹاؤنز اور یوسیز میں بجٹ بھی موجود ہے اور وسائل بھی، لیکن وہاں عوام کو عملی طور پر کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ سوائے کرپشن کے کچھ نہیں ہورہا۔
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان پیٹرولیم لیوی بھتاٹیکس کیخلاف جاری دھرنے میں جماعت اسلامی کے ٹاونز چیئرمینوں کی کھلی کچہری سے خطاب کر رہے ہیں















