کارکن اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں،عنایت اللہ خان

بٹ خیلہ ( صباح نیوز ) جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی کے امیر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز وفاقی مذاکراتی کمیٹی میں شامل وزراء اور ٹیم ممبران نے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی سے معاونت مانگی، ہم نے انہیں 1500 ارب روپے پیٹرولئیم لیوی کے برعکس بجٹ میں چار ہزار ارب روپے سپیس کی نشاندہی کی، مگر حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے میں مگن ہے اس لئے جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کو سنجیدہ نہیں لے رہی، ہمارا احتجاج اب دھرنا تحریک میں بدل چکا ہے جو مرکزی امیر کی کال پر اسلام اباد پہنچ کر حکومت کو عوامی طاقت دکھائین گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ملاکنڈ کی طرف سے بٹ خیلہ میں پٹرولیم لیوی، ٹیکس نفاذ اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں جماعت اسلامی سمیت اسلامی جمعیت طلبہ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور قائدین نے بھر پور شرکت کی دھرنا چوتھے دن بھی جاری رہا.جس سے سابق صوبائی وزیر شاہ راز خان، ٹریڈ یونین کے سابق صدر زوار خان، نور اللہ تھانوی اور اسلامی جمعیت طلبہ ملاکنڈ یونیورسٹی کے ناظم نے بھی خطاب کیا عنایت اللہ خان نے کہا کہ لیوی کے نام پر عوام سے بھتہ وصول کیا جارہا ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری رہیگا۔ان کا کہنا تھا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف جماعت اسلامی پورے ملک میں آواز بلند کررہی ہے، جبکہ ٹیکس نفاذ کے خلاف توانا آواز بھی جماعت اسلامی ہی کی ہے جماعت اسلامی ایک پرعزم تحریک کا نام ہے اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ لائحہ عمل کے لیے تیار رہیں، کیونکہ حافظ نعیم الرحمن کل احتجاج کے حوالے سے فائنل کال دیں گے انہوں نے کارکنان سے کہا کہ اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top