ایران امریکا کشیدگی: خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرگئی

تہران /واشنگٹن/برلن /صنعا /ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران امریکا کشیدگی بڑھنے سے خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرگئی۔ تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا سلسلہ جاری ہے، تازہ کاروبار میں برینٹ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.19 ڈالر اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 105.4 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 4.53 ڈالر اضافے سے 100.58 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ الجزائرنے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق الجزائر کے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا گیا کہ ’دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے تمام ذرائع ختم ہونے کے بعد الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ الجزائر کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر ملکی اور علاقائی امور میں مداخلت کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ایران نے امریکا کی جانب سے یمن کی انصاراللہ کے حوالے سے عاید الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے واشنگٹن کو اپنی عدم استحکام پر مبنی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انصاراللہ یمن کی ایک خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے وہ نہ کسی سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی کسی ملک کی پراکسی ہے۔ حوثی خبر رساں ایجنسی صبا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فورسز نے یمن کے صوبوں تعز، حدیدہ، الجوف اور مارب میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 40 فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کے خلاف ان کی کارروائیوں کے بعد کیے گئے۔ رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی تاریخی بندرگاہ موخا اور ذباب سمیت باب المندب سے متصل ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حوثیوں کے پاس یمن کے گنجان آباد شمالی علاقوں کا پہلے ہی بڑا حصہ ہے۔ امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور تنصیبات کم کرنے کے مختلف منصوبوں پر غیر رسمی غور جاری ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق متعدد امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو خطے میں تعینات اہلکاروں اور فوجی و انٹیلی جنس تنصیبات کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ طے شدہ فون پر گفتگو منسوخ کردی۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی جانب سے جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی علاقائی انتخاب میں کامیابی کا کھلے عام خیرمقدم کیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ان کی موجودہ صدارتی مدت کے اختتام تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت وائٹ ہاؤس کے اہم مشیروں نے نجی طور پر صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع جلد ختم نہ ہونے کی صورت میں یہ ان کی باقی صدارتی مدت تک طول پکڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر پِک ایکس ماؤنٹین میں مشکوک سرگرمیاں جاری رہیں تو امریکا اس مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پِک ایکس کے مقام پر کچھ سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کوئی ’چالاکی‘ کی تو امریکا اسے سخت جواب دے گا۔پِک ایکس ماؤنٹین ایران کے اہم جوہری مرکز نطنز کے قریب واقع ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیب ہے، جہاں گہرائی میں موجود دو سرنگوں کے کمپلیکس قائم ہیں۔ نطنز کی جوہری تنصیب حالیہ حملوں میں شدید متاثر ہوچکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا ایرانی نام تبدیل کر کے اس کا نام ‘آبنائے ٹرمپ’ رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ اظہار اس کے باوجود کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی امریکا و ایران کے درمیان جھگڑے کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے اور دونوں اس کے کنٹرول کے لیے اپنی مسلح افواج کو بروئے کار لائے ہوئے ہیں۔ اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔ امریکی میڈیا سی بی ایس کے مطابق حملہ موافق السلطی ائربیس پر ہوا، جہاں تقریباً آٹھ ایف-15 جنگی طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم انہیں بعد میں دوبارہ سروس میں شامل کرلیا گیا۔ امریکا کی جانب سے اپنی آبدوز پکڑے جانے سے انکار پر ایرانی پاسداران انقلاب نے اس کی مکمل وڈیو جاری کردی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز امریکا کی آبدوز کو آبنائے ہرمز سے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ ترجمان پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر گرفت اب بھی مضبوط ہے اور کسی کو بغیر اجازت گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رپورٹ کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ویانا میں ہونے والے 35 رکنی بورڈ کے اجلاس میں قرارداد کے حق میں 23 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ چین، روس اور نائجر نے مخالفت کی اور 8 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا یا غیر جانب دار رہے۔ یہ قرارداد امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی تھی ۔ایران امریکی پابندیوں سے بچنے اور عالمی بینکاری نظام سے گریز کے لیے چین کے ساتھ بارٹر تجارت کرنے لگا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے 2 اعلیٰ ایرانی ذرائع سمیت تجارت سے باخبر افراد نے بتایا کہ ایران امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے اپنے تیل کی فروخت جاری رکھنے اور چین سے اربوں ڈالر مالیت کی اشیا، فوجی سازو سامان خریدنے کے لیے بارٹر نما تجارتی نظام استعمال کر رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حوثیوں نے آبنائے باب المندب کے داخلی راستے اور بحیرہ احمر کے کئی جزائر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب حوثی یمن کے مغربی ساحل پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور تزویراتی بندرگاہی شہر المخا تک پہنچ چکے ہیں۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرہ زقر پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنی زیرِ زمین تنصیبات میں پہلے سے ذخیرہ شدہ پرزہ جات کی مدد سے بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں میزائل سائٹس اور صنعتی تنصیبات پر حملوں کے باوجود ایران مائع ایندھن اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کی اسمبلنگ میں مصروف ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top