اسلام آباد(صباح نیوز)عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت ڈیپوٹیشن پر آئے تمام ڈاکٹرز کوپمز میں ابزارب کرنے کے حوالہ سے ڈی پی سی میں فیصلہ کرے۔ڈی پی سی کے ذریعے سب جائیںگے ، سب ٹرانفریز کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے گا، سب کی ڈی پی سی دوبارہ ہوگی،درخواست گزارکوجس پراسیس سے گزارہ جائے گاسب کواُسی پراسیس سے گزارہ جائے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل چودھری عامررحمان ڈیپوٹیشن پر آئے تمام ڈاکٹروں کی فہرست جمع کرائیںجبکہ عدالتی حکم پر وفاقی سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشزاینڈ کوآرڈینیشن کیپٹن (ر)محمد محمودبینچ کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس ملک شہزاداحمد خان پر مشتمل 3رکنی بینچ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)میں ڈاکٹروں کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے معاملہ پر ڈاکٹر مجاہدرضاکی جانب سے سیکرٹری کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ڈویژن اسلام آباد اور سیکرٹری وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن، اسلام آباد اوردیگرکے خلاف دائر دودرخواستوں پرسماعت کی۔ چیف جسٹس کاکہناتھا کہ جس نے کوئی چیز جمع کروانی ہے جمع کرواسکتاہے ، ہم فہرست موصول ہونے کے بعد حکمنامہ جاری کردیں گے۔ بینچ نے چودھری عامررحمان کوآج (جمعہ)تک ڈیپوٹیشن پرآئے ڈاکٹروں کی فہرست جمع کرانے کی ہدایت کردی۔دوران سماعت پمز کی سابق ترجمان ڈاکٹر عائشہ عیسانی قیصر مجید نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ہماری ڈی پی سی پہلے ہی ہوچکی ہے،اس پر بینچ نے اُن کی بات نہیں سنی۔















