لاہور/راولپنڈی/کراچی/حیدرآباد/پشاور کوئٹہ/ بٹ خیلہ( نمائندگان جسارت/اسٹاف رپورٹر ) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کل (جمعہ) گوجرانوالہ جلسہ میں اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں اہم اور ہنگامی مشاورت کے لیے جماعت اسلامی کی پورے ملک سے قیادت کو منصورہ میں طلب بھی کرلیا ہے۔ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا کے چھبیسویں روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور حکومتی وفود کے درمیان مذاکرات اور حکومت کی مزید مہلت کی درخواست کا تذکرہ کیا اور حکمرانوں پر واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی پر عوام نے انہیں پہلے ہی26 روز کی مہلت دی ہے، حکومت جان لے کہ عوام اسلام آباد کی جانب نکل پڑے تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے، لہذا حکمران ہوش کے ناخن لیں، عوام سے بھتہ وصول کرنے کی بجائے اپنی عیاشیاں بند کریں۔نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن، رسل خان بابر، سیکرٹری لاہور اظہر بلال، نائب امیر لاہور ذکراللہ مجاہد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی سیکرٹری شیخ عثمان فاروق اور امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری نے دھرنا سے خطاب بھی کیا۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے لاہور، کراچی اور پشاور کے ساتھ حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی، سرگودھا، تیمر گرہ، دیربالا، بنوں سمیت ملک کے پنتیس مقامات پر بھی جاری ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے شرکاء کی استقامت کو سراہا اور انہیں احتجاج میں عوام کی شرکت مزید بڑھانے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن دھرنوں کو قوم کی امنگوں کا ترجمان بنادیں، انہوں نے کہا کہ یہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کی ثابت قدمی اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ذرائع ابلاغ پر پٹرولیم لیوی کی بحث مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے، جماعت اسلامی نے سیاست کا رخ بدل دیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ سیاست عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا نام ہے۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مسلسل عوامی مسائل کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ حکومت ہماری پرامن جدوجہد کو کمزوری کا نہ سمجھے، جماعت اسلامی کے کارکنان اور نوجوان پوری طرح تیار ہیں اور صرف قیادت کی ہدایات کے منتظر ہیں، یہ نوجوان بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فارم سنتالیس کے حکمران ملک کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، مریم نواز نے پنجاب میں تعلیم، صحت، زراعت کو تباہ کریا، گیارہ ہزار سکول فروخت کردیے گئے، صوبہ میں سرکاری سکولوں کے نویں جماعت کے نتائج میں باون فیصد طالب علم فیل ہوگئے، قوم کے اثاثے بیچ کر مریم نواز اپنے والد کے نام پر چند سکول بنا رہی ہیں، اس سے قبل چچا نے بھی دانش سکولوں کا ڈرامہ رچایا، صوبہ کی زراعت کی شرح نمو چھ فیصد سے کم ہوکر اعشاریہ پانچ فیصد پر آگئی، کپاس تباہ ہوگئی، ٹریکٹر او کسان کارڈ جیسے نمائشی اقدامات جاری ہے جب کہ کھادیں اور بیج چھوٹے کسان کی پہنچ سے دور ہیں، مسلط شریف خاندان پنجاب کو اپنی راجدھانی سمجھتا ہے، کوئی اس راجدھانی کو چھوٹا کرنے کی بات کردے تو یہ بھارت سے دوستی کی پینگیں ڈالنا شروع کردیتے ہیں، مریم اس ضمن میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہی ہیں، ن لیگ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو پنجابی کارڈ کھیلنا شروع کردیتی ہے، سندھ میں یہی کام پیپلز پارٹی کرتی ہے اور لسانی تعصبات کو ہوا دینا شروع کردیتی ہے، یہ پورا نظام ہی فرسودہ ہے، جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کی بات کرتی ہے۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ گفتگو کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خصوصاً پٹرولیم لیوی میں اضافے کے خلاف عوامی تحفظات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ حکومت کی جانب سے عوام پر پٹرولیم لیوی کا بوجھ ڈالنا کھلم کھلا ظلم ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو متفقہ طور پر مہنگائی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور اور موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک گیر سطح پر عوام کی نمائندگی کا حق ادا کر رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جماعت اسلامی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی کے خلاف ان کی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا عوامی مسائل پر واضح موقف اختیار کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی جماعت اسلامی کی جمہوری و عوامی جدوجہد کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت پٹرولیم لیوی کے معاملے پر عوام کو فوری اور عملی ریلیف فراہم کرے ۔ مزید برآں جماعت اسلامی پاکستان اور حکومت کے وفود کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس کے دوران حکومت نے مزید تین دن کا وقت مانگتے ہوئے جماعت اسلامی سے پیر تک لانگ مارچ کے حتمی اعلان کو مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ اس سلسلہ میں فیصلہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ہی کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان، امیر لاہور ضیاالدین انصاری، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا شامل اور نوید علی بیگ شامل تھے جبکہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثنائاللہ،وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت پٹرولیم ڈویژن، پاور ڈویژن سمیت مختلف متعلقہ شعبوں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج پنجاب ہاؤس میں جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، جس میں جماعت اسلامی نے اپنے چھ نکات پر تفصیلی بات کی، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دلوانا چاہتی ہے، پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ حکومت نے مزید تین دن کا وقت مانگا ہے اور حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ بیوروکریٹس مشکلات کا پہاڑ پیش کردیتے ہیں، تاہم ہم نے اپنے ایک ایک نکتے پر بات کی ہے۔ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کے سامنے واضح مؤقف رکھا ہے۔ حکومت کے پاس آئیں بائیں شائیں کے علاوہ کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے چھ اہم شعبے موجود ہیں جہاں حکومت اقدامات کرسکتی ہے۔ آئل ریفائنریز کا مارجن کم کیا جائے اور شرح سود میں 3 فیصد کمی کی جائے۔ پاور سیکٹر کے حکام نے مذاکرات میں بتایا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بھی کام جاری ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے مفت خوری کی بنیاد پر پٹرولیم لیوی عائد کر رکھی ہے، جبکہ حکومتوں کی نااہلی اور بیڈ گورننس کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کو ایک حد تک آگے لے کر چل سکتے ہیں، تاہم اس معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں اور حکومت کو بھی بتایا ہے کہ اس معاملے کو زیادہ طویل نہیں چلایا جاسکتا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہ ہوئی تو ملک بھر سے دھرنے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔ مذاکرات نتائج سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو آگاہ کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ وہ کریں گے۔ادھر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف لیاقت باغ راولپنڈی میں احتجاجی دھر نا دوسرے روز بھی جاری رہا ، دھر نے میں راولپنڈی کی مختلف یونین کونسلوں سے مردو خواتین اور بچے شر یک ہیں ، جبکہ مختلف مکتبہ فکر اور سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد نے بھی جماعت اسلامی کے دھر نے میں شر کت کی،دھر نے سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق ممبر قومی اسمبلی میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم ، سیکرٹری جنرل سیکرٹری اقبال خان ، امیرجماعت اسلامی راولپنڈی شہر سید عارف شیرازی ، امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی دیہی راجہ محمد جواد ، امیر جماعت اسلامی مر ی غلام احمد عباسی، نائب امیر حافظ تنویر احمد ، رضا احمد شاہ اور دیگر ضلعی و صوبائی رہنمائو ں نے خطاب کیا ۔شرکاء سے خطاب کر تے ہو ئے میاں محمد اسلم نے کہا پٹرولیم لیوی عوام پر مسلط کیا گیا ظالمانہ بھتہ ٹیکس ہے، حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دے۔ اگر حکومت نے لیوی ختم نہ کی اور تیل کی قیمتیں کم نہ کیں تو عوامی احتجاج اور دھرنا ’’حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ‘‘ تحریک میں تبدیل ہوجائے گا، پٹرولیم لیوی کا بوجھ براہِ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، زراعت اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو اس ظالمانہ بوجھ تلے دبنے نہیں دے گی اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی، انھوں نے حکمران طبقے کے شاہانہ اخراجات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف غریب آدمی کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی اور راشن کا خرچ پورا کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے، دوسری طرف اربوں روپے کے طیارے اور کروڑوں روپے کی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا حکمرانوں نے عوام سے قربانیاں مانگنے کو اپنا معمول بنا لیا ہے، لیکن خود اپنے شاہانہ اخراجات اور مراعات کم کرنے کے لیے تیار نہیں،ن لیگ اور اس کے اتحادیوں نے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز لگا کر اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے ، عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ لیکن لیوی بھتہ ٹیکس کا کوئی جواز نہیں ہے، پیٹرول کی قیمت سے اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، 25دنوں سے پاکستان کے 32 شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور اس کا دائرہ مزید بڑھایا جا ئے گا ، انھوں نے کہا وزیراعلیٰ کی جانب سے 11 ارب روپے کا طیارہ خریدنا اور چیئرمین سینیٹ کے لیے کروڑوں روپے کی گاڑی کی خریداری عوام کے ساتھ کھلا مذاق اور ان کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران واقعی ملکی معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی مراعات، پروٹوکول اور غیرضروری سرکاری اخراجات ختم کریں، ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش موجود ہے لیکن حکمران اپنی عیاشیوں اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لیے تیار نہیں۔ادھرامیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کا پرامن دھرنا امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید کی قیادت میں تاریخی حیدر چوک پر 18ویں روز بھی جاری رہا۔ یہ دھرنا عوام کے غصب شدہ حقوق، حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں، پیٹرول لیوی بھتے، اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف جاری مسلسل جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی کے امیر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز وفاقی مذاکراتی کمیٹی میں شامل وزراء اور ٹیم ممبران نے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی سے معاونت مانگی، ہم نے انہیں 1500 ارب روپے پیٹرلیم لیوی کے برعکس بجٹ میں چار ہزار ارب روپے سپیس کی نشاندہی کی، مگر حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے میں مگن ہے اس لئے جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کو سنجیدہ نہیں لے رہی، ہمارا احتجاج اب دھرنا تحریک میں بدل چکا ہے جو مرکزی امیر کی کال پر اسلام اباد پہنچ کر حکومت کو عوامی طاقت دکھائین گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ملاکنڈ کی طرف سے بٹ خیلہ میں پٹرولیم لیوی، ٹیکس نفاذ اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں جماعت اسلامی سمیت اسلامی جمعیت طلبہ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور قائدین نے بھر پور شرکت کی دھرنا چوتھے دن بھی جاری رہا۔















