چیشیناؤ: روسی ڈرون حملے کے شدید خطرے اور سکیورٹی الرٹ کے پیشِ نظر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا طیارہ بروقت پرواز نہ بھر سکا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مولدووا کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث یوکرینی صدر کا ناروے روانگی کا مشن چند گھنٹوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔
حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ یوکرینی صدر کا طیارہ اس وقت تک رکے رہنے کا فیصلہ کیا گیا جب تک کہ فضا مکمل طور پر کلیئر نہیں ہوگئی۔ چیِشیناؤ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تقریباً 160 کلومیٹر دور ایک روسی ڈرون کے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔
اس خطرناک پیش رفت کے بعد سکیورٹی حکام نے فوری طور پر فضائی حدود پر عارضی پابندیاں نافذ کر دیں۔ پابندیوں کے دوران 3 پروازوں کی روانگی اور 4 طیاروں کی آمد کا عمل بری طرح متاثر ہوا، جس سے مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مولدووین حکام نے بتایا کہ منگل کو مجموعی طور پر 2 روسی ڈرون ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ ایک ڈرون دارالحکومت کے شمال میں ایک کھیت میں جاگرا جس سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ دوسرا ڈرون اپنی سمت تبدیل کر کے رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوگیا۔
مولدووا کی صدر مایا ساندو نے ان ڈرونز کی دراندازی کو مقامی شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور اس کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے یوکرین کے ساتھ سرحدی گزرگاہ پر ہونے والے روسی حملے کا بھی ذکر کیا جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب امریکا میں تعینات مولدووا کے سفیر نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ڈرون دراندازی محض ایک حادثہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا۔
واضح رہے کہ سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد مولدووا کی جانب سے فضائی پابندیاں ہٹا دی گئیں۔ پابندیاں ختم ہوتے ہی یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا طیارہ ناروے کے لیے روانہ ہوگیا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر عالمی تشویش کو اجاگر کیا ہے۔















