کراچی: جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئر پرسن ڈاکٹر عارف ساقی نے کہا ہے کہ تشدد کرنے والے بااثر شخص کے والد نے ان سے رابطہ کر کے معافی مانگنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض غلطی کا نہیں بلکہ کھلی بدمعاشی ہے۔
پروفیسر عارف ساقی نے وضاحت کی کہ سڑک پر گاڑی ٹکرانے کے بعد جس انداز میں انہیں زدوکوب کیا گیا اور ڈیڑھ گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا گیا، وہ کسی طور پر قابل معافی نہیں۔ انہوں نے اسے دہشت گردی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صفورا چورنگی کے قریب ایک گارڈ نے ان کی گاڑی رکوائی، جس کے بعد ایک ڈالے نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری۔ جب انہوں نے نقصان کی تلافی کے لیے بات کرنی چاہی تو گارڈز اور دیگر افراد نے ان پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا۔
پروفیسر عارف ساقی نے مزید کہا کہ اس دوران انہوں نے اپنا تعارف کروایا اور اسے اپنے بچوں جیسا سمجھ کر سمجھانے کی کوشش کی، مگر حملہ آوروں نے ایک نہ سنی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے دوران ہجوم جمع ہوا تو فائرنگ کی گئی اور انہیں زبردستی ایک ریسٹورنٹ لے جایا گیا۔
انہوں نے اپنی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکیسویں گریڈ کے افسر ہونے کے باوجود آج بھی کرایے کے گھر میں رہائش پذیر ہیں اور ایمانداری ان کی اصل دولت ہے۔ وہ اپنی موٹر سائیکل کے حادثے کے بعد مجبوری میں گاڑی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن انہیں معاشرے میں وی آئی پی کلچر کا سامنا کرنا پڑا۔
پروفیسر عارف ساقی نے کہا کہ اب یہ معاملہ عدالت میں جا چکا ہے اور وہ اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں انسانیت کی بحالی ممکن ہو سکے اور آئندہ کسی کو ایسی بدمعاشی کرنے کی ہمت نہ ہو۔















