پاکستان میں 2 حفاظتی ویکسینز کی تیاری جلد شروع ہوگی، وفاقی وزیرصحت

vacin

کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کی ایک کمپنی کے تعاون سے پاکستان میں 2 حفاظتی ویکسینز کی تیاری جلد شروع ہوگی، چینی کمپنیوں سے 663 ملین ڈالر کے معاہدے ہوچکے ہیں اور طبی آلات کی رجسٹریشن کا عمل 2 سال سے کم ہو کر 21 روز رہ گیا ہے، تاہم 26 کروڑ آبادی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان نے پہلی قومی ویکسین پالیسی متعارف کرادی ہے اور انڈونیشیا کی ایک کمپنی سے 2 ویکسینز ملک میں تیار کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ مقامی وہ جمعرات کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 23ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل نمائش اور کانفرنسز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔تیاری سے ویکسینز کی دستیابی بہتر اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا، جبکہ بچوں کو 13 بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ چینی کمپنیوں نے صحت کے شعبے میں 663 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ہر سال 67 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ ملک 2030 تک دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن سکتا ہے، اس لیے ہسپتالوں، بیماریوں سے بچاؤ، طبی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت کا مطلب لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، صرف ہسپتال بنا کر مریضوں کا انتظار کرنا بیماری کے بعد علاج کا نظام ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 14 ماہ میں اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد 2,100 سے بڑھا کر 2,595 کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق 15 نئے ہسپتالوں کی تعمیر میں 15 سال لگ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ ہسپتالوں میں بستروں اور سہولتوں کا اضافہ جلد ریلیف دے سکتا ہے۔

نمائش کے دورے میں وفاقی وزیر نے مقامی طور پر تیار طبی آلات کو سراہا اور کہا کہ ملکی پیداوار درآمدی سامان پر انحصار کم کرے گی۔ انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستانی صنعت کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کی دعوت بھی دی۔

افتتاحی تقریب میں 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ایک معاہدہ طبی اداروں کا سرٹیفکیشن بہتر بنانے اور دوسرا ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دور دراز علاقوں تک طبی مشاورت پہنچانے سے متعلق ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ طبی آلات کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن کو ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے اور درخواستیں اب 21 روز میں نمٹائی جا رہی ہیں۔ نادرا سے شناختی کارڈ نمبر کو یونیورسل میڈیکل ریکارڈ نمبر بنانے پر بھی بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 53 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے اور عالمی ادارۂ صحت کا میچورٹی لیول تھری ملنے سے پاکستانی ادویات کے لیے مزید 100 ممالک کی منڈیاں کھل سکتی ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top