عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے پچھلے 20 برسوں میں پہلی مرتبہ سلامتی کونسل سے ایران کی شکایت لگا دی

441782_3134333_updates

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تقریباً 20 برس بعد پہلی مرتبہ ایران کے جوہری معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے کی منظوری دے دی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے بدھ کو ایران کی جوہری معاہدے کی مبینہ عدم تعمیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجنے کے حق میں ووٹ دیا۔

قرارداد کے حق میں 23 ووٹ آئے، 3 ارکان نے مخالفت کی جبکہ 8 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ روس، چین اور نائجر نے قرارداد کی مخالفت کی۔

قرارداد میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو رپورٹ پیش کریں۔

قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی مکمل طور پر پُرامن نوعیت پر عالمی اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اور بلاشرط مذاکرات کرے۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اپنے ملک میں موجود یورینیئم کی باقیات کے معائنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد تقریباً 20 برس بعد پہلا موقع ہے جب جوہری معاہدے سے متعلق ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کرنے پر ایران کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا گیا ہے۔

تاہم اس اقدام کو بڑی حد تک علامتی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایران کے اتحادی روس اور چین سلامتی کونسل میں تہران کے خلاف کسی بھی پابندی کی قرارداد کو ویٹو کرسکتے ہیں۔

مغربی حکام کا خیال ہے کہ یورینیئم کی باقیات سے ایسے شواہد مل سکتے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ ایران نے 2003 تک ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام جاری رکھا تھا۔

ماہرین کے مطابق آئی اے ای اے کی جانب سے معاملہ سلامتی کونسل میں بھیجے جانے کے بعد ایران پر مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

مزید خبریں

Scroll to Top