منیلا: فلپائن کے صوبے پالوان کے ساحلی علاقے میں ایک مسافر بردار بحری جہاز میں لگنے والی ہولناک آگ کے باعث کم از کم 5 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ درجنوں مسافروں کا تاحال کوئی پتا نہیں چل سکا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
ایم وی جون ایسٹر نامی یہ فیری سیاحتی مقام کورون کے قریب سمندر میں سفر کر رہی تھی کہ اچانک اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کوسٹ گارڈ نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
کوسٹ گارڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت جہاز پر عملے سمیت مجموعی طور پر 134 افراد سوار تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے اپنی بروقت کارروائی کے دوران اب تک 42 مسافروں کو بحفاظت نکال کر قریبی ساحل تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
کوسٹ گارڈ کے کیپٹن نومی کیابیاب نے بتایا کہ فی الحال 87 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جا رہا ہے۔
سمندری لہروں کے درمیان جاری اس مشکل ریسکیو مشن میں مختلف اداروں کی کشتیاں اور غوطہ خور حصہ لے رہے ہیں تاکہ زندگی بچائی جا سکے۔
حکام نے اس افسوسناک واقعے کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ فیری میں آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کے مختلف حصوں میں لگی آگ نے پورے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس سے شدید تباہی ہوئی۔
حکومت کی جانب سے لاپتا ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی مدد کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال ریسکیو اداروں کی تمام تر توجہ سمندر میں پھنسے ہوئے یا لاپتا افراد کو ڈھونڈ نکالنے پر مرکوز ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔















