روس اور شمالی کوریا کے درمیان پہلی بار باقاعدہ سڑک رابطہ قائم

Russia-and-North-Korea

ماسکو: روس اور شمالی کوریا کے درمیان پہلی بار باقاعدہ اور مستقل سڑک رابطہ قائم ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت اور زمینی سفر کے لیے نیا راستہ کھل گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کو ملانے والا نیا پل دریائے تیومِن پر تعمیر کیا گیا ہے، جسے گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یاکوف نووچینکو پل روس کے سرحدی علاقے خسان کو شمالی کوریا کے شہر تمَنگانگ سے ملاتا ہے۔

نیا پل تقریباً 1005 میٹر طویل ہے، جس میں 581 میٹر حصہ شمالی کوریا جبکہ 424 میٹر روس کی حدود میں واقع ہے۔ پل پر دونوں سمتوں کے لیے دو لینز موجود ہیں جبکہ سڑک کی چوڑائی تقریباً 7 میٹر ہے۔ یہ پل دونوں ممالک کے درمیان موجود کوریا-روس فرینڈ شپ برج سے تقریباً 415 میٹر مشرق میں تعمیر کیا گیا ہے۔

روس اور شمالی کوریا کے درمیان اس سے قبل واحد مستقل رابطہ 1959 میں قائم کیا گیا ریلوے پل تھا، گاڑیوں کو اس پل سے گزارنے کے لیے ریلوے پٹریوں پر لکڑی کے تختے بچھا کر عارضی انتظام کرنا پڑتا تھا۔

نئے پل کے افتتاح کے بعد اس عارضی طریقہ کار کی ضرورت ختم ہوگئی ہے اور دونوں ملکوں کو پہلی مرتبہ مخصوص، باقاعدہ اور مستقل سڑک کراسنگ میسر آگئی ہے۔

روسی حکام کے مطابق نئے راستے کے ذریعے مستقبل میں روس کے شہر ولادی ووستوک کو شمالی کوریا کے شہر چونگ جن سے زمینی ٹرانزٹ کے ذریعے جوڑنے میں بھی مدد ملے گی۔

روسی جانب خسان کے قریب تقریباً 2.4 کلومیٹر طویل نئی سڑک تعمیر کی جارہی ہے جو پل کو روس کے موجودہ سڑک نیٹ ورک سے منسلک کرے گی، جبکہ دونوں اطراف سرحدی چیک پوسٹیں بھی قائم کی جارہی ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ پل کو ملک کے وفاقی شاہراہوں کے نظام سے بھی منسلک کیا جائے گا، جس کے بعد یہ مستقبل میں ولادی ووستوک سے سینٹ پیٹرزبرگ تک پھیلے وسیع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔

نیا پل روزانہ تقریباً 300 گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ اس سے روزانہ تقریباً 2323 افراد سفر کرسکیں گے۔ پل سے مال بردار ٹرکوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع کی جائے گی جبکہ مسافروں کے لیے مکمل آپریشن 2026 کے اختتام تک شروع ہونے کی توقع ہے۔

نئے زمینی رابطے سے روس اور شمالی کوریا کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل آسان ہونے کے ساتھ سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی بھی توقع کی جارہی ہے۔

نئے پل کا نام سوویت ریڈ آرمی کے افسر یاکوف نووچینکو کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں شمالی کوریا میں ایک اہم تاریخی شخصیت کی حیثیت حاصل ہے۔

پیانگ یانگ کے مطابق 1946 میں نووچینکو نے شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم اِل سونگ کو قاتلانہ حملے سے بچایا تھا، ایک تقریب کے دوران کم اِل سونگ کی جانب پھینکا گیا دستی بم نووچینکو نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر روک لیا تھا۔

اسی واقعے کے باعث یاکوف نووچینکو کو شمالی کوریا میں آج بھی ایک علامتی اور تاریخی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top