الجزائر: الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اماراتی سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق الجزائر کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنے کے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق الجزائر نے متحدہ عرب امارات پر ملکی معاملات کے ساتھ ساتھ خطے کے مختلف امور میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق الجزائر حکومت نے اپنے ملک میں تعینات اماراتی سفیر کو بھی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے الجزائر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے اور اس مقصد کے لیے انہیں 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی نئی نہیں، الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون ماضی میں بھی متحدہ عرب امارات کے علاقائی کردار پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنی تقاریر میں متحدہ عرب امارات کو اکثر ایک ’’مائیکرو اسٹیٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ خطے کے مختلف ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
رواں سال جولائی میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران بھی صدر عبدالمجید تبون نے متحدہ عرب امارات کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ جہاں قدم رکھتے ہیں، وہاں خون بہتا ہے۔‘‘
الجزائری صدر نے مزید کہا تھا کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات سے دور رہنا چاہتا ہے تاکہ الجزائر میں خونریزی کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ان کے بقول امارات کا علاقائی کردار انتہائی منفی رہا ہے۔
عبدالمجید تبون نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ اگر الجزائر عرب دنیا میں پائی جانے والی تقسیم کو مزید گہرا ہونے سے روکنے کی کوشش نہ کررہا ہوتا تو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بہت پہلے ختم کیے جاچکے ہوتے۔
تازہ فیصلے کے بعد الجزائر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی روابط باضابطہ طور پر ختم ہوگئے ہیں، جبکہ اماراتی سفیر کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔















