دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے جاری کردہ پاسپورٹس میں سرخ، نیلا، سبز اور سیاہ رنگ کا انتخاب محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری سیاسی، مذہبی اور عملی وجوہات کارفرما ہیں۔
ان رنگوں کے انتخاب کا مقصد عالمی سطح پر ممالک کی انفرادی شناخت کو برقرار رکھنا ہے۔
نیلے رنگ کو اکثر نئی دنیا کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور یہ یورپ کی روایتی شناخت سے دوری کے اظہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح سرخ رنگ کو ماضی میں کمیونسٹ نظام کے پیروکار ممالک نے اپنی سیاسی وابستگی ظاہر کرنے کے لیے اپنایا تھا۔
کئی اسلامی ممالک سبز رنگ کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ مذہبی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاہ رنگ کا استعمال بہت کم ہے اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک اسے اپنے قومی تشخص کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سیاہ پاسپورٹ کا استعمال بعض ممالک میں سفارتی سطح پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ممالک کو اپنے پاسپورٹ کا رنگ منتخب کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ ان بنیادی رنگوں کے مختلف شیڈز کو بھی اپنی سہولت کے مطابق استعمال میں لا سکتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلابی یا پیلے جیسے شوخ اور ہلکے رنگ پاسپورٹ کے لیے کیوں استعمال نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ پاسپورٹ پر درج سرکاری معلومات اور علامات کی تیاری کا طریقہ کار ہے جسے انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پاسپورٹ کے سرورق پر سنہری نشانات اور تحریر گرم دھاتی ورق کے ذریعے ابھاری جاتی ہے۔ یہ طریقہ گہرے رنگوں پر نہایت واضح، نفیس اور دیدہ زیب دکھائی دیتا ہے۔ ہلکے رنگوں پر یہ اسٹامپ اپنی افادیت اور نمایاں حیثیت کھو دیتی ہے۔
نیپال جیسے ممالک گہرے بھورے رنگ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس پر بھی سنہری نقوش واضح نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عملی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر گلابی یا پیلے جیسے ہلکے رنگوں کا انتخاب پاسپورٹ سازی کے لیے موزوں تصور نہیں کیا جاتا۔















