لندن: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے لیکن قومی مسائل کے حل اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کا عمل جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی سرگرمی کرنا ہر جماعت کا حق ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سندھ آمد پر انہیں خوش آمدید کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ آمد پر ان کا خیرمقدم کیا گیا اور صوبائی حکومت نے ان کی سرگرمیوں میں کبھی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو سیاسی دوروں کے دوران درپیش داخلی مشکلات کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ، اپوزیشن اور خود پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کو مسلسل دعوت دے رہی ہے کہ وہ ایوان میں آ کر اپنا فعال اپوزیشن کا کردار نبھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن میں موجود جے یو آئی کے ساتھ تعاون کا عمل خوشگوار اور انتہائی مثبت رہا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے انکشاف کیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں جے یو آئی اور پیپلز پارٹی نے باہمی اتحاد قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور 2024 کے عام انتخابات کے نتائج پر انہیں اب بھی گہرے تحفظات موجود ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ انتخابی عمل پر صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کی جماعتیں بھی تنقید کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت پارلیمنٹ میں ایک جامع انتخابی اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر متفقہ اور شفاف انتخابی نظام ترتیب دیا جا سکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم قومی معاملات کو کاروباری فورمز کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر کے ساتھ باضابطہ بحث کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔















