24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے بٹ کوائن کی چوری، 22 سالہ نوجوان کا جرم کا اعتراف

bitcoin

واشنگٹن: سنگاپور سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان میلون لیم نے امریکی عدالت میں تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے بٹ کوائن چوری کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا، ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جدید طریقوں سے متاثرین کو دھوکا دیا، حساس معلومات حاصل کیں اور کرپٹو والٹس تک رسائی حاصل کرکے بھاری مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی چوری کی۔

 امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق میلون لیم اور اس کے ساتھیوں نے سوشل انجینئرنگ اور جعل سازی کا سہارا لیا۔ ملزمان نے متاثرین کو مختلف طریقوں سے یقین دلایا کہ وہ ان کے کرپٹو اکاؤنٹس یا سیکیورٹی سے متعلق مدد فراہم کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں ایسی معلومات حاصل ہوگئیں جن کے ذریعے ڈیجیٹل والٹس تک رسائی ممکن ہوئی۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 4 ہزار سے زائد بٹ کوائن چوری کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بنتی تھی۔ چوری کے بعد ملزمان نے رقم کو مختلف کرپٹو والٹس اور دیگر ذرائع سے منتقل کیا تاکہ اس کے اصل ماخذ کو چھپایا جاسکے۔

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن چوری کرنے کے بعد میلون لیم اور اس کے ساتھیوں نے دولت کی نمائش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چوری کی گئی رقم سے مہنگی سپر کاریں، لگژری رہائش گاہیں، نجی طیاروں کے سفر اور نائٹ کلبوں میں پرتعیش تقریبات پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے۔

حکام کے مطابق لیم نے صرف ایک رات نائٹ کلب میں تقریباً 5 لاکھ ڈالر خرچ کیے جبکہ اس کے زیر استعمال سپر کاروں میں بعض کی قیمت 38 لاکھ ڈالر تک تھی۔

رپورٹس کے مطابق ملزم نے مہنگی گاڑیوں اور عالیشان طرز زندگی کے ذریعے اپنی دولت کی بھرپور نمائش کی۔ پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ چوری شدہ رقم کے حصول کے بعد ملزمان نے انتہائی مختصر عرصے میں غیر معمولی اخراجات کیے۔

تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ میلون لیم نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے مختلف فرضی نام استعمال کیے، جن میں ’’Anne Hathaway‘‘، ’’$$$‘‘ اور ’’King Greavy‘‘ جیسے نام شامل تھے۔

حکام کے مطابق لیم نے کم عمری میں اسکول چھوڑ دیا تھا اور بعد ازاں امریکا منتقل ہوگیا، جہاں اس نے کرپٹو کرنسی سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔

امریکی حکام نے میلون لیم کو ستمبر 2024 میں میامی سے گرفتار کیا تھا۔ اس مقدمے میں دیگر افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن پر چوری اور اس رقم کو چھپانے یا منتقل کرنے میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

عدالت میں جرم کا اعتراف کرنے کے بعد لیم کو زیادہ سے زیادہ 20 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ حتمی سزا کا فیصلہ عدالت شواہد، جرم کی نوعیت اور دیگر قانونی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گی۔

یہ مقدمہ اس بات کی ایک بڑی مثال قرار دیا جارہا ہے کہ کس طرح سائبر جرائم پیشہ عناصر جدید سوشل انجینئرنگ تکنیکوں کے ذریعے کرپٹو سرمایہ کاروں کو نشانہ بنا کر انتہائی بڑی مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی چوری کرسکتے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top