اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی رہائشی زیتون بی بی کو نصف صدی سے جاری وراثتی جائیداد کے تنازع میں حتمی انصاف فراہم کر دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے 2022 کے اپنے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرانے کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالتی نظام کا دارومدار احکامات کی حرمت پر ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ عدالتی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک عمل ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی نظام میں نظم و ضبط کی پاسداری ہر صورت لازم ہے، اسی لیے عدالت نے کیس میں کسی بھی قسم کی مزید تاخیر کی گنجائش کو یکسر ختم کر دیا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق زیتون بی بی کے والد 1976 میں انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد سے انہیں ان کے جائز وراثتی حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے نصف صدی تک انصاف کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کی اور بالآخر اعلیٰ ترین عدالت سے انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مارچ 2024 میں نظرثانی کیس کے دوران مشروط التوا دیا گیا تھا، لیکن فریقین نے عدالتی مہلت کا غلط فائدہ اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ دوبارہ التوا کی درخواستیں دائر کرنا عدالتی تقدس کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، اس لیے درخواست خارج کر دی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے نے نصف صدی سے جاری اس تنازع کو منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہناہ ے کہ یہ فیصلہ نہ صرف زیتون بی بی کے لیے انصاف کا پروانہ ثابت ہوا ہے بلکہ عدالتی نظام کی ساکھ اور احکامات کی بالادستی کو بھی یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کی ہے۔















