برمنگھم: انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں پاکستان کی بیٹنگ ابتدا ہی میں مشکلات سے دوچار ہوگئی اور قومی ٹیم نے 26 رنز کے مجموعے پر 4 وکٹیں گنوا دیں۔
برمنگھم میں جاری ٹیسٹ میں انگلینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ قومی ٹیم کی جانب سے اننگز کا آغاز صائم ایوب اور اذان اویس نے کیا، تاہم پاکستان کو ابتدا ہی میں نقصان اٹھانا پڑا۔
صائم ایوب کھاتہ کھولے بغیر ہی پویلین واپس لوٹ گئے، جبکہ ان کے بعد آنے والے اذان اویس بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور صرف 9 رنز بناسکے۔
پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب عبداللہ شفیق 3 رنز کے انفرادی اسکور پر رابنسن کی گیند کا شکار ہوگئے۔ اس کے بعد شان مسعود بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور آرچر نے انہیں آؤٹ کرکے پاکستان کو چوتھا نقصان پہنچایا۔
یوں قومی ٹیم نے ابتدائی مرحلے میں ہی 4 اہم وکٹیں گنوا دیں اور انگلینڈ کے گیند بازوں نے پاکستانی بلے بازوں پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
اس میچ کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون میں 3 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی مرتبہ موقع دیا گیا ہے۔ غازی غوری، رضا اللہ اور عمران رندھاوا اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کررہے ہیں۔
ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کی جانب سے ٹیسٹ کیپس پہنائی گئیں۔ غازی غوری کو سعود شکیل نے ٹیسٹ کیپ دی، جبکہ رضا اللہ اور عمران رندھاوا کو بالترتیب محمد عباس اور بابر اعظم نے ٹیسٹ کیپ پہنائی۔
3 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں انگلینڈ کو پہلے ہی 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے، اس لیے آخری ٹیسٹ پاکستان کے لیے سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کا موقع بھی رکھتا ہے۔















