کراچی: میر رضا کیس میں جائے وقوعہ سے ملنے والے گولی کے خول سے متعلق سندھ پولیس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خول کو فارنزک سائنس لیبارٹری پہنچانے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی گئی، جبکہ اس حوالے سے جاری رپورٹ ابتدا ہی سے مقدمے کی فائل کا حصہ ہے۔
سندھ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل کیا گیا خول 7 اگست کو فارنزک سائنس لیبارٹری میں جمع کرایا گیا تھا، جس کے بعد لیبارٹری نے 10 اگست کو اپنی رپورٹ جاری کردی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو مقدمے کے ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق فارنزک رپورٹ ابتدائی ضمنی چالان کے ساتھ سندھ ہائیکورٹ کمیشن کو بھی جمع کرائی گئی۔ رپورٹ میں متعلقہ اسلحہ ڈیلر کی جانب سے مبینہ غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔
سندھ پولیس نے خول کو تاخیر سے فارنزک لیبارٹری بھیجنے سے متعلق سامنے آنے والے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والا خول واردات میں استعمال کیے گئے پستول کا نہیں تھا۔
پولیس کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والے پستول سے متعلق خول تفتیشی افسر نے خود فارنزک سائنس لیبارٹری میں جمع کرایا تھا، جس کا ریکارڈ بھی تفتیش کا حصہ ہے۔
سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ پستول کی برآمدگی کے بعد برآمد ہونے والے اسلحے اور خول کی دوبارہ فارنزک تصدیق کی جائے گی، جس کے نتیجے میں اسلحے اور واردات کے درمیان تعلق سے متعلق مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا کہ کیس میں فارنزک شواہد کو مقررہ طریقہ کار کے تحت محفوظ کرکے تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے اور خول سے متعلق تمام ریکارڈ متعلقہ فورمز پر پیش کیا جاچکا ہے۔















