میٹا کی نئی اے آئی ایپ، ای میلز بھیجے گی اور آن لائن ادائیگیاں بھی کرے گی

metafacebook

میٹا نے ایسا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرا دیا ہے جو صارف کی اجازت سے مختلف ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کرکے اس کی جانب سے روزمرہ کے متعدد کام خود انجام دے سکے گا۔ اس نظام کے ذریعے برقی خطوط بھیجنے، سفر کی بکنگ، گاڑی کی فروخت میں معاونت اور ادائیگیاں کرنے جیسے کام انجام دیے جاسکیں گے۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق میٹا کے نئے مصنوعی ذہانت ایجنٹ کا نام ’’میوز‘‘ رکھا گیا ہے، جبکہ اس منصوبے کو کمپنی کے اندر ابتدائی طور پر ’’ہیچ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہ منصوبہ میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کے اس وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت کمپنی اپنے اربوں صارفین کے لیے ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنا چاہتی ہے جو صرف سوالات کے جواب دینے کے بجائے خود عملی اقدامات بھی کرسکے۔

میٹا کے مطابق ’’میوز‘‘ صارف کی اجازت سے برقی خطوط، تقویم، ادائیگیوں، صحت، خریداری اور گھریلو برقی آلات سے متعلق ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ صارف کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی وقت دی گئی اجازت واپس لے سکے۔

اس نظام کو عام مصنوعی ذہانت پر مبنی گفتگو کے نظام سے مختلف بنانے والی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر ’’میوز‘‘ ایجنٹ کے لیے الگ مجازی مشین فراہم کی جاتی ہے۔ یہ ایک علیحدہ کمپیوٹر ماحول ہوتا ہے جو بادل پر چلتا رہتا ہے، جس کے باعث صارف کے کسی کام کی ہدایت دینے کے بعد بھی مصنوعی ذہانت پس منظر میں اپنا کام جاری رکھ سکتی ہے، خواہ صارف اس دوران متعلقہ ایپلی کیشن استعمال نہ کررہا ہو۔

میٹا ’’میوز‘‘ کو ابتدائی طور پر امریکا میں دستیاب کرے گی۔ صارف اسے ایک علیحدہ ایپلی کیشن کے ذریعے استعمال کرسکیں گے، جبکہ پیغام رسانی کی معروف خدمت واٹس ایپ کے ذریعے بھی اس تک رسائی حاصل ہوگی۔ کمپنی مستقبل میں اس مصنوعی ذہانت ایجنٹ کو اپنی مصنوعی ذہانت سے لیس چشموں میں شامل کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔

کمپنی کے مطابق ’’میوز‘‘ کا بنیادی استعمال مفت ہوگا، جبکہ زیادہ سہولیات اور وسیع استعمال کے خواہش مند صارفین کے لیے ماہانہ 20 ڈالر اور 100 ڈالر کی رکنیت بھی پیش کی جائے گی۔ صارفین کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا کہ ان کی ’’میوز‘‘ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے یا نہیں۔

میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ’’میوز‘‘ کا محفوظ تر اور رمز بندی پر مبنی نسخہ متعارف کرانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ صارفین کی معلومات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

تاہم مصنوعی ذہانت ایجنٹ کی اس وسیع رسائی نے ماہرین اور خود کمپنی کے اندر بھی تحفظات پیدا کیے ہیں۔ کسی ایسے نظام کو اگر ذاتی برقی خطوط، تصاویر، مالی معلومات، صحت سے متعلق ریکارڈ یا دیگر حساس معلومات تک رسائی حاصل ہو تو مصنوعی ذہانت کی جانب سے ہونے والی معمولی غلطی بھی عام گفتگو کرنے والے مصنوعی ذہانت کے نظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

میٹا کے نائب صدر برائے مصنوعی ذہانت مصنوعات وشال شاہ نے بتایا کہ کمپنی نے اپریل میں اس ٹیکنالوجی کی رونمائی مؤخر کردی تھی تاکہ اس کے حفاظتی انتظامات کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ ان کے مطابق اضافی حفاظتی اقدامات کے بعد کمپنی اس نتیجے پر پہنچی کہ ’’میوز‘‘ کو صارفین کے لیے پیش کرنے کے لیے مطلوبہ ابتدائی حفاظتی معیار حاصل کرلیا گیا ہے۔

میٹا نے ’’میوز‘‘ کی نگرانی کے لیے ایک الگ مصنوعی ذہانت ایجنٹ بھی تیار کیا ہے، جو اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ مرکزی ایجنٹ کون سے اقدامات کرنے جارہا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ نگران نظام ’’میوز‘‘ کو کارروائی آگے بڑھانے سے قبل صارف سے دوبارہ اجازت لینے کی ہدایت کرسکتا ہے۔ تاہم کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے کسی بھی نظام میں غلطی کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب کمپنی کے اندر کیے گئے تجربات میں ’’میوز‘‘ کی کارکردگی کے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق میٹا کے بعض ملازمین نے داخلی پیغامات میں اس نظام کے تجربات بیان کیے۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ’’میوز‘‘ نے چھٹیوں کی منصوبہ بندی میں اس قدر مدد فراہم کی کہ انڈونیشیا میں تین ہفتوں کے ہنی مون کے دوران وہ اسے ایک اضافی ساتھی محسوس کرنے لگا۔

تاہم بعض تجربات میں ایسے مسائل بھی سامنے آئے جنہوں نے نظام کی حفاظتی صلاحیتوں پر سوالات اٹھادیے۔ ایک آزمائش کے دوران مصنوعی ذہانت ایجنٹ نے حفاظتی پابندیوں سے بچنے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ذاتی آئی کلاؤڈ تصاویر تک رسائی ظاہر کی۔ یہ تصاویر ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب سے متعلق تھیں اور مصنوعی ذہانت کو ان میں موجود کھلونوں کی شناخت کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

میٹا کے چیف ٹیکنالوجی افسر اینڈریو بوس ورتھ نے بھی داخلی پیغام میں ’’میوز‘‘ کے استعمال کے دوران پیش آنے والی بعض مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق نظام میں بار بار خروج اور دوبارہ داخلے کی ضرورت پیش آتی رہی اور بعض اوقات چند ہی منٹ کے اندر متعدد مرتبہ ایسا کرنا پڑا۔

ایک اور ملازم کے تجربے میں ’’میوز‘‘ کو تیزی سے ختم ہونے والے ٹکٹوں اور دیگر اشیا کی دستیابی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دی گئی، تاہم نظام مسلسل اور قابلِ اعتماد انداز میں یہ کام انجام نہ دے سکا۔ تجربے کے دوران کچھ دیر بعد صفحہ تازہ ہونا بند ہوگیا، بعض خرابیوں کو نظام نے نظر انداز کیا جبکہ نگرانی کا عمل بھی بعض اوقات بظاہر کسی واضح وجہ کے بغیر رک گیا۔

میٹا نے ان مخصوص واقعات پر برطانوی خبررساں ادارے کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ کی یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تیار کردہ دیگر خودکار مصنوعی ذہانت نظام بھی بعض غیر متوقع رویوں کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ ان واقعات کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کرگئی ہے کہ ایسے نظاموں کو صارف کی جانب سے کتنی خودمختاری دی جانی چاہیے، بالخصوص اس وقت جب انہیں ذاتی معلومات، مالی معاملات اور دیگر حساس خدمات تک براہ راست رسائی حاصل ہو۔

میٹا کے لیے ’’میوز‘‘ محض ایک نئی مصنوعی ذہانت خدمت نہیں بلکہ ایک بڑے کاروباری منصوبے کا حصہ بھی ہے۔ کمپنی مصنوعی ذہانت میں اپنی بھاری سرمایہ کاری سے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اور رواں سال مصنوعی ذہانت کی چپس اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر 130 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہونے کی پیش گوئی کرچکی ہے۔

اگر ’’میوز‘‘ قابلِ اعتماد اور محفوظ انداز میں کام کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ صارفین کے لیے روزمرہ کے کئی کام خودکار طریقے سے انجام دینے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے ایسے نظاموں میں غلط فیصلوں، حفاظتی پابندیوں سے بچ نکلنے اور ذاتی معلومات کے غیر مناسب استعمال کے خدشات اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں ایک بڑا چیلنج بھی برقرار رکھیں گے۔

مزید خبریں

Scroll to Top