اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے والی 17 وزارتوں کو ختم کرنے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
کابینہ ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور تعاون کو برقرار رکھنے کی خاطر ان وزارتوں کا قائم رہنا ناگزیر ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ حسن نقوی نے ان وزارتوں کو برقرار رکھنے کی درخواست کی، تاہم کمیٹی چیئرمین سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کو فیصلے پر نظرثانی کا کوئی موقع نہ دینے کا دو ٹوک اعلان کیا۔
کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزارتوں کی جانب سے آئینی حدود سے تجاوز کا ایک اور انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ آئینی مینڈیٹ کے بغیر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کا تقرر کر رہی ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری پیٹرولیم کا استدلال تھا کہ یہ تقرریاں قانون کے مطابق ہیں۔
حیرت انگیز طور پر حکام نے جس آئینی شق کا سہارا لیا، وہ دراصل لائبریریوں اور عجائب گھروں کے امور سے متعلق تھی۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ آئندہ پی پی ایل کے ڈائریکٹرز کے لیے صوبائی حکومتوں سے باقاعدہ نامزدگیاں حاصل کی جائیں۔
سینیٹ کمیٹی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا کہ آئین بین الاقوامی معاہدوں کی بات ضرور کرتا ہے لیکن یہ وزارتیں برقرار رکھنے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا۔ چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ صوبوں کو ان کا جائز حق ملنا چاہیے کیونکہ موجودہ صورتحال میں انہیں ملنے والے وسائل کافی کم ہیں۔
کارروائی کے دوران کمیٹی نے سیکرٹری کابینہ کی مسلسل غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف کو طلب کرنے پر بھی غور کیا تاکہ ان سے وضاحت طلب کی جا سکے۔ کمیٹی نے حکومت کو مذکورہ وزارتیں بند کرنے کے لیے دو ہفتوں کی آخری مہلت دی ہے۔















