27 ستمبر کو پرامن مارچ کریں گے، عوام اسٹیٹس کو سے چھٹکارا چاہتے ہیں: بیرسٹر گوہر

barristergohar3

پشاور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سے متعلقہ مقدمے کی سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا کردی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا مسئلہ ہے، اسی وجہ سے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ ان کے مقدمے کی سماعت جلد مقرر کی جائے تاکہ معاملے پر بروقت پیش رفت ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ سیاسی نظام سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور ملک میں جمہوری انداز میں تبدیلی اور نئے انتخابات کے خواہاں ہیں۔ عوام سیاسی کشیدگی اور تقسیم سے تنگ آچکے ہیں، اس لیے ملک میں سیاسی حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو پرامن مارچ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ مارچ کسی شوق یا وقتی سیاسی سرگرمی کے طور پر نہیں کیا جارہا بلکہ اس کا مقصد عوام کی آواز سامنے لانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مارچ کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے امید ظاہر کی کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اس مارچ میں شریک ہوں گی، جس سے اپوزیشن کی مشترکہ سیاسی سرگرمیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس معاملے میں جلد بازی سے کام لینا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ اہم نوعیت کا ہے اور اس پر کسی بھی فیصلے سے قبل تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے نرسنگ کالج کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ پر پولیس تشدد کو افسوسناک قرار دیا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق واقعے کے بعد متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے اور پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف تشدد کسی صورت نہیں ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ پنجاب کے صوبوں سے متعلق بیان پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بیان میں استعمال کیے گئے الفاظ واپس لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کو طاقت کے بجائے جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ ملک میں موجود سیاسی تناؤ کے خاتمے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نئے انتخابات سمیت تمام اہم معاملات پر سنجیدہ پیش رفت ضروری ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top