ایجبسٹن: پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد قومی اسکواڈ میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں سے متعلق انہیں نہ تو پہلے سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ان سے کوئی مشاورت کی گئی۔
تیسرے ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے اسکواڈ میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں پر اپنی حیرانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ٹیم میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا علم پاکستان کرکٹ بورڈ کے باضابطہ اعلان کے بعد ہوا تھا۔
کپتان نے کہا کہ وہ بھی دیگر افراد کی طرح اس فیصلے کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ یہ سب کچھ ان کے لیے بھی ایک خبر کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ بورڈ نے ان سے مشاورت نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بورڈ ہی بہتر وضاحت کر سکتا ہے۔
بابر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یقیناً یہ فیصلہ کسی خاص سوچ بچار کے بعد ہی کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں شامل کیے گئے نئے کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے ٹیم میں جگہ بنائیں۔
خیال رہے کہ لارڈز میں شکست کے اگلے روز پی سی بی نے 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے فارغ کر دیا تھا۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ ہی ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا جو کرکٹ حلقوں میں موضوع بحث بنا۔
بورڈ کی جانب سے 7 نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا جن میں سے 5 کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے اس سے قبل کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔ بابر اعظم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان تبدیلیوں نے ان کے لیے گزشتہ ہفتہ ذہنی طور پر بہت زیادہ مشکل بنا دیا۔
بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ وہ اس صورتحال پر ضرور حیران تھے لیکن انہوں نے پیشہ ورانہ رویہ برقرار رکھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب توجہ تیسرے ٹیسٹ کی تیاریوں پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ قومی ٹیم میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔















